خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 794 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 794

خطبات طاہر جلد 14 794 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 1995ء ان صفات کو نہیں اٹھا سکتے وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ دیکھو محد مصطفی یہ انسان کامل آگے بڑھا اور ان کو اٹھالیا۔پس جب میں کہتا ہوں عرش الہی محمد رسول اللہ ﷺ کا دل ہے تو دل فی ذاتہ نہیں ہے بلکہ انسان کو جو استطاعت بخشی گئی ہے، استعداد اور طاقت بخشی گئی ہے کہ صفات باری تعالیٰ کو اپنی ذات میں جاری کرے اور اس کا مظہر بن جائے۔پس جب فرشتے مظہر ہوتے ہیں تو ان کو عرش اٹھانے والا کہہ دیا جاتا ہے۔جب انسان مظہر ہوتے ہیں تو پھر ان انسانوں کو عرش اٹھانے والا کہہ دیا جاتا ہے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اس اٹھانے میں اکیلے نہ رہے بلکہ اپنے ساتھ وہ دوسرے نور پیدا کر دئیے جو عرش کو اٹھانے میں آپ کے ساتھ تھے اور وہ دعا ئیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ہمیشہ کیں۔قرآن نے ان دعاؤں کو عرش اٹھانے والوں کی طرف منسوب فرما دیا، یہ ہیں جنہوں نے آسمان اٹھا رکھا ہے۔اس کو صوفیاء اپنی اصطلاح میں بعض دفعہ قطب کے طور پر بیان کرتے ہیں۔چار قطب ہوتے ہیں جنہوں نے آسمان اٹھا رکھا ہے۔اب جو بے چارے تماش بین ہیں، جن کو پتا ہی نہیں کہ صوفی ازم ہے کیا۔اس کے عرفان کے معنے کیا ہیں؟ وہ سمجھتے ہیں کہ چار قطب ہر جگہ کہیں موجود ہیں انہوں نے عرش کو اپنے سر پر اٹھا رکھا ہے حالانکہ وہ قطب یہی صفات باری تعالیٰ کے مظہر ہیں اور امت محمدیہ میں صرف رسول اللہ کے زمانے ہی میں نہیں بلکہ اس صوفی اصطلاح سے پتا چلتا ہے جس کی بنیاد ہے حقائق پر ، ہر زمانے میں محمد رسول اللہ ﷺ کے ایسے غلام ہیں جو اقطاب کہلاتے ہیں، پیدا ہوتے رہتے ہیں اور کوئی ایک صفت کی جلوہ گری میں کمال حاصل کر لیتا ہے، کوئی دوسری صفت کی جلوہ گری میں کمال حاصل کر لیتا ہے لیکن چاروں صفات کا مظہر کامل حضرت محمد مصطفی ﷺ کےسوا دنیا میں کبھی نہ پیدا ہوا، نہ ہوگا سوائے اس کے کہ آپ کی غلامی کے اندر آ کر اپنی شخصیت کو مٹا دے اور آپ کا نام اس پر اطلاق پائے ورنہ الگ وجود پیدا نہیں ہوسکتا، ناممکن ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- خدا تعالیٰ نے تمام اجرام سماوی و ارضی پیدا کر کے پھر اپنے وجود کو صلى الله وراء الوراء مقام میں مخفی کیا جس کا نام عرش ہے۔۔۔“ اب عرش کا ایک معنی وہ ہے جو چار صفت کے حوالے سے اس دنیا میں انسانوں پر ظاہر ہے