خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 792 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 792

خطبات طاہر جلد 14 سمیٹا گیا ہے۔792 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 1995ء دوم خدا کی رحمانیت جو ظہور میں آچکی ہے یعنی جو کچھ اس نے بغیر پاداش اعمال بے شمار نعمتیں انسان کے لئے میسر کی ہیں یہ صفت بھی اس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کرتی ہے۔۔۔“ رحمانیت کی تفصیلات میں اس وقت جانے کا وقت نہیں لیکن میں پہلے بھی بعض خطبوں میں رحمانیت ہی کے موضوع پر گفتگو کر چکا ہوں۔بے شمار ایسے اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کی نشو و نما کے لئے اور آئندہ ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے مخفی خزانے اکٹھے کر رکھے ہیں کہ جن کا ہر زمانے کے انسان سے تعلق نہیں ہے، ان کے بغیر انسان ویسے بھی زندہ رہ سکتا تھا مگر ہر آنے والی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے انسانی ضرورت کے لئے مخفی خزانے محفوظ کر رکھے ہیں۔یہ رحمانیت ہے جو بن مانگے دیتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہی فرمار ہے ہیں کہ دوسرا خدا کی رحمانیت ہے یعنی جو کچھ اس نے بغیر پاداش اعمال ، یہ رحمانیت کی روح ہے۔عمل کے نتیجے میں نہیں بلکہ عمل کرنے والا ا بھی پیدا نہیں ہوا اور پھر بھی خدا تعالیٰ نے آئندہ اس کی ضرورتوں کے پیش نظر جو رحمت کے جلوے دکھائے ہیں یہ اس کی دوسری صفت ہے جس کا خدا کی تمام صفات سے ایک بنیادی تعلق ہے۔۔۔۔تیسری خدا کی رحیمیت ہے اور وہ یہ کہ نیک عمل کرنے والوں کو اول تو صفت رحمانیت کے تقاضا سے نیک اعمال کی طاقتیں بخشتا ہے اور پھر صفت رحیمیت کے تقاضا سے نیک اعمال ان سے ظہور میں لاتا ہے۔۔۔“ یہ بھی توفیق الہی سے ہوتا ہے کہ جو صلاحیتیں ہیں ان کو نیک محل پر استعمال کر کے فائدہ بھی تو اٹھائے ورنہ بے کار بیٹھا رہے تو چلنے کی بھی طاقت باقی نہیں رہتی۔دو ہفتے کی بیماری سے ٹانگوں کی جان نکل جاتی ہے۔تو رحیمیت رحمانیت کو دائم اور جاری و ساری رکھنے کے لئے ایک اور صفت ہے اور رحمانیت کے جلوے جو بار بار رحیمیت کے ذریعے ظہور ہوتے ہیں ان کی تفصیل تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت جگہ لکھی ہے یہاں صرف اتنا فرمایا ہے کہ پھر صفت رحیمیت کے تقاضا سے نیک اعمال ان سے ظہور میں لاتا ہے جو رحمانیت کے تقاضا سے استعدادوں کے طور پر ان کو ملے ہوئے ہوتے ہیں۔