خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 783 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 783

خطبات طاہر جلد 14 783 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 1995ء ہی بنتا ہے لیکن ضمنا چونکہ فرشتوں کی خدمت کا حصہ ہے، یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے۔پس اس ضمن میں میں چار اور آٹھ کے مسئلے کو تو آپ کے سامنے پہلے حل کروں۔قرآن کریم فرماتا ہے۔وَانْشَقَتِ السَّمَاءِ فَهِيَ يَوْمَبِذٍ قَاهِيَةٌ وَالْمَلَكُ عَلَى أَرْجَابِهَا وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَبِذٍ ثَمُنِيَةٌ (الحاق : 17 ،18) جب آسمان پھٹ پڑے گا اور یہ بودا اور بے طاقت دکھائی دے گا، کچھ بھی باقی نہیں رہے گا - وَالْمَلَكُ عَلَى اَرْجَابِهَا اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوقَهُمُ اور اس دن تیرے رب کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوگا۔کون؟ يَوْمَينِ ثمنية اس دن آٹھ۔اب وہ ثمانیہ چونکہ تانیث ہے اس لئے صفات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔اس لئے صفات باری تعالیٰ کا ترجمہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے بعینہ اس مضمون کے مطابق ہے لیکن یہ بھی فرمایا کہ چونکہ فرشتوں کا صفات سے بھی تعلق ہے اس لئے گویا تمثیلی طور پر فرشتوں کو بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اٹھائے ہوئے ہیں ورنہ حقیقت میں نہیں تمثیلی رنگ میں فرشتوں کو کہا جاتا ہے۔یہاں تو آٹھ کا ذکر ہے اور دنیا میں چار صفات ہم پر روشن ہوئی ہیں یہ کیا حکمت ہے، یہ کیا فرق ہے۔قیامت کے دن چار، آٹھ کیسے ہو جائیں گے۔قرآن کریم میں سورہ فاطر میں اللہ تعالیٰ اس مضمون کے اوپر فرشتوں کی صفات کے تعلق میں روشنی ڈالتا ہے۔فرماتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ (فاطر: 2) تمام اور کامل اور حقیقی تعریف اللہ ہی کی ہے کہ جو آسمانوں اور زمین کا آغاز کرنے والا ہے، اس کی تخلیق کا آغاز کرنے والا ہے جَاعِلِ الْمَلَكَةِ فرشتوں کا بنانے والا ہے رُسُلًا پیغمبر کے طور پر ، ان کے ذریعے سے کام لیتا ہے۔جو خدا ان کو پیغام دیتا ہے اس پیغام کے مطابق وہ آگے ان کاموں کو جاری کرتے ہیں اس لحاظ سے وہ رسول ہیں أولى أَجْنِحَةٍ وہ پروں والے ہوتے ہیں مَّثْنى وَثُلُثَ وَرُبع ان میں دو پروں والے بھی ہیں اور تین تین پروں والے بھی اور چار چار والے بھی يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ مگر چار پر بات محدود نہیں رہے گی۔جب اللہ چاہے گا اور جو چاہے گا وہ اپنی خلق میں اضافہ فرما دے گا۔پس آٹھ اور چار میں تضاد نہیں ہے بلکہ اسی مضمون کو آگے بڑھایا گیا ہے جہاں آٹھ کا ذکر ملتا ہے اور پر صفات