خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 778 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 778

خطبات طاہر جلد 14 778 خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 1995ء الله برتر تھا وہ محمد رسول الله لتے تھے۔پس کجا یہ کہ مد رسول اللہ ﷺ کے دل پر خدا جلوہ گر ہو کجا یہ کہ پانی پر بیٹھا ہو یعنی ظاہری پانی پر ، زمین و آسمان کا فرق ہے ان دو باتوں میں۔ایک صرف کہانی ہے اور ایسی کہانی ہے جو خدا کے وجود کو مادی بنا کر دکھاتی ہے۔ایک حقیقت ہے اور ایسی صاحب عرفان حقیقت ہے کہ جس پے جتنا بھی غور کریں اتنا ہی دل یقین سے بھرتا چلا جاتا ہے کہ یہ بات سچی ہے۔پس وہ خدا جو کبھی جلوہ گر ہوا ہے یعنی اس دائرے میں جس میں انسانوں کو پیدا کیا گیا۔وہ کبھی کسی نبی کے دل پر اس طرح جلوہ گر نہیں ہوا جیسے محمد رسل اللہ ہے کے دل پر جلوہ گر ہوا۔وہ خدا جس کو موسی" کو دیکھنے کی طاقت نہیں تھی جس کو خدا نے بتایا کہ تجھ میں جان نہیں ہے، تجھ میں استطاعت نہیں ہے کہ میرا وہ جلوہ دیکھ سکے جس کا تو مطالبہ کر رہا ہے وہ محمد رسول اللہ ﷺ کا دل تھا جس نے وہ جلوہ اٹھایا ہے۔وہ جلوہ جس کی آسمانوں کو طاقت نہیں تھی ، جس کی زمینوں کو طاقت نہیں تھی ، نہ بڑے کو طاقت تھی ، نہ چھوٹے کو طاقت تھی " حَمَلَهَا الْإِنْسَانُ ( الاحزاب : 72) اس کو انسان نے اٹھالیا۔اب دیکھ لیں حمل کا لفظ یہاں موجود ہے۔عرش کا حمل اس کو کہتے ہیں۔محمد رسول اللہ کے دل نے وہ صفات باری اپنی ذات پر اٹھائی ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حَمَلَهَا الْإِنْسَانُ اس انسان کامل نے خدا کے اس کامل جلوے کو اٹھایا جو اس مخلوق کی انتہائی طاقت تھی اس سے آگے اس مخلوق کو پہنچنے کی استطاعت ہی عطا نہیں کی گئی تھی۔پس یہ معنے ہیں عرش الہی کے اور بھی ہیں مگر اگر وقت ملا تو اسی مضمون پر آئندہ انشاء اللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات آپ کے سامنے رکھوں گا ورنہ پھر ہوسکتا ہے کوئی دوسرا مضمون شروع کر دیا جائے۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔