خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 776 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 776

خطبات طاہر جلد 14 776 خطبه جمعه 13 اکتوبر 1995ء یعنی موجود تو ہر جگہ ہے مگر تخلیق کی پہنچ نہیں ۔ ہے وہاں تک ۔ بارہا میں یہ مثال دے کر کھول چکا ہوں کہ Dimensions بھی بدل جائیں تو ہمارا تصور اپنی Dimensions کی حدوں سے ٹکرا کر لوٹ آتا ہے اور اگلی Dimensions میں داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ حساب کی رو سے سائنس دانوں نے آج کل چودہ Dimensions تک بنارکھی ہیں لیکن وہ حساب کرنے والے خود بھی ذرہ بھی نہیں سمجھتے کہ وہ Dimensions کیا چیز ہے۔ اس میں کیسے کوئی چیز ہوسکتی ہے صرف حسابی نکتے ہیں ۔ اپنی Dimension سے مراد یہ یہ کہ دائیں بائیں، اوپر نیچے، اطراف اور وہ وقت جو ان اطراف میں سمٹی ہوئی چیز کے اوپر سے گزر رہا ہے یا بیچ سے گزر رہا ہے۔ ان کو Dimension کہتے ہیں اور یہ Dimension چار ہیں یعنی چار اطراف ہیں ایک وقت کی طرف اور باقی تین جسمانی اطراف ۔ ہماری کائنات انہی چار میں محدود ہے لیکن یہ ثابت ہے قرآن کریم سے بھی کہ اور Dimension ہیں اور اس کا ثبوت آنحضرت ﷺ کے ذریعے ہمیں ملا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ جنت کا عرض اس کا پھیلاؤ، اس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے۔ اب صحابہ تو یہی سمجھے کہ یہ Dimension جو ہماری ہیں ان میں باتیں ہو رہی ہیں۔ اگر یہ ان کا سمجھنا درست ہوتا تو جہنم کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں بچتی کیونکہ ایک ہی Dimension میں ایک ہی طول و عرض اور وقت میں ایک سے زیادہ چیزیں ایسی نہیں سما سکتیں جو ایک دوسرے کی نفی کرتی ہوں ۔ یا یہ ہو گی یا وہ ہو گی ۔ مثلاً ایک بوتل میں جتنا پانی آتا ہے اتنا ہی آئے گا۔ اس بوتل میں اتنا پانی، اتنا شہد، اتنا شربت ، اتنا کوکا کولا اکٹھا تو نہیں آپ بھر سکتے ۔ تو یہ مراد ہے Dimension سے۔ تو صحابہ یہ سمجھے کہ آنحضرت ا قرآن کریم کی اس آیت کو جس میں فرمایا گیا ہے کہ زمین و آسمان کے برابر جنت کی Dimensions ہیں شاید نظر انداز فرمارہے ہیں کیونکہ اگر یہ درست ہے تو جہنم کہاں ہوگی پھر ۔ یہی سوال انہوں نے کیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ جہنم بھی وہیں ہو گی مگر تم اس کا شعور ہی نہیں رکھتے یعنی تمہیں پتا ہی نہیں کہ Dimensions ہوتی کیا چیز ہیں۔ اگر Dimensions بدل جائیں تو اسی ظاہری جگہ میں جہاں ایک بوتل پانی آتا ہے اگر Dimensions بدل جائیں تو اسی ظاہری جگہ میں ایک ریڈیائی طاقت بھی موجود ہو سکتی ہے۔ لہروں کی مختلف شکلیں بھی تو موجود ہو سکتی ہیں۔ حالانکہ ان کی بھی Dimension یہی ہے۔اس صلى الله