خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 73 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 73

خطبات طاہر جلد 14 73 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء تیرا ملنا دائگی ملنا ہو اور ہم ہمیشہ احتیاج محسوس کریں کہ تو پھر بھی ملے۔اس مضمون کا ایک پہلو ہے جس کی طرف آپ کو اب متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ خدا کا ملنا کوئی ایسا ملنانہیں جیسے بندے کا ملنا ہو اور اس کے بعد ملاقات کی آرزو اپنی انتہا کو پہنچ جائے اور مکمل ہو جائے اور انسان سیراب ہو جائے۔خدا کا ملنا تو ایک لا متناہی سفر کی مثال رکھتا ہے۔ہر قدم جو منزل کی طرف اٹھ رہا ہے وہ کچھ ملاقات کا مزہ دیتا ہے لیکن جہاں ٹھہر جائیں وہاں محرومی اور ہجر کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔پس ہاتھ بھی اٹھتے ہیں اور اٹھتے چلے جاتے ہیں۔قدم بھی اٹھتے ہیں اور اٹھتے چلے جاتے ہیں۔کوئی ایسا مقام نہیں آتا کہ جہاں ہاتھ گر جائیں یا قدم رک جائیں اور اگر آئے گا تو وہی موت کا اور ہجر کا مقام ہے جس میں خدا کی حاصل کردہ لقاء کے جو پہلے پھل تھے وہ بھی ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی لقاء کا یہ جو مضمون ہے یہ ان معنوں میں بہت گہرائی رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے اندر سفر لا متناہی سفر ہے۔اللہ کی ذات کا کوئی عرفان اول تو بذات خود ممکن نہیں۔اللہ ہی خود ظاہر ہو تو ممکن ہے۔اسی لئے میں نے عرض کیا تھا کہ خدا کے ہاں بھی ایک انکساری پائی جاتی ہے اور وہ انکساری نہ ہو تو ہمارے درمیان کوئی اتصال کی صورت باقی نہ رہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ کون سی آنکھ ہے جو خدا کو پاسکتی ہے، ناممکن ہے۔وَهُوَ يُدْرِكُ الابصار وہ آنکھوں تک پہنچتا ہے خود تمہیں وہم ہے کہ تمہاری نظریں دور دور تک جاتی ہیں اور یہ صورتحال عام انسانی بصیرت کے تجربے کے اوپر بعینہ صادق آتی ہے۔اگر سورج کی روشنی خود سفر کر کے ارب ہا ادب میل سے بظاہر تنزل اختیار کرتے ہوئے ہماری آنکھوں تک نہ پہنچے تو ہماری آنکھ کی بصیرت اپنی ذات میں تو کوئی طاقت نہیں رکھتی کہ باہر نکے اور اندھیروں کے سینے پھاڑ کر حقائق تک پہنچ سکتی ہو۔کسی چیز کا بھی اور اک نہیں کر سکتی۔پس آسمان سے روشنی اترتی ہے اور وہ آنکھوں تک پہنچتی ہے اور اس سے انسان دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے اگر اندرونی نور ہو لیکن اپنی ذات میں وہ نور ایک ساقط نور ہے اس میں توفیق ہی نہیں ہے کہ نظر سے اچھل کر باہر جا سکے اور باہر کے گردوپیش کا جائزہ لے سکے۔تو جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعلق ہے اس میں تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ انسان اپنی کوشش اور کھوج اور جدو جہد اور حرکت کے نتیجے میں خدا کو پالے لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ