خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 758 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 758

خطبات طاہر جلد 14 758 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1995ء فرماتا ہے فَأَخَذْتُهُمْ انہوں نے نبیوں کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن میں نے اس سے پہلے ان کو دبوچ لیا۔ایک آدمی کسی کی طرف دوڑا جار ہا ہو اس کو پکڑنے کے لئے اوپر سے ایک ہاتھ اترے اور گردن سے پکڑ کے، دبوچ کے اس کو اٹھا کے ہلاکت کے گڑھے میں پھینک دے یہ نقشہ ہے جو قرآن کریم کھینچ رہا ہے فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ انہوں نے کیا پکڑ کرنی تھی دیکھو میری پکڑ کیسی تھی کسی شان کی اور کیسی فیصلہ کن پکڑ تھی وَكَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ اَصْحَبُ النَّارِ (المومن : 7 )۔یہ وہ مضمون ہے جس کو اگر وہ پڑھیں اور غور کریں تو ان پر یقیناً یہ بات تیرے رب کی یہ بات کھل جائے گی جنہوں نے کفر کیا کہ وہ لازماً جہنمی لوگ ہیں کیونکہ یہ عادتیں جہنمیوں کی ہیں کہ سچائی کے مقابل پر جھوٹ بولیں اور جھوٹ کو سب سے بڑا ہتھیار بنا لیں۔Main Stay ان کی ان کا اصل سہارا جھوٹ ہو جائے جس کے ذریعے وہ حق کا مقابلہ کرتے ہیں اور ایسے لوگ اگر ذرا بھی غور کریں تو ان کو سمجھ آنی چاہئے کہ ہم جو جھوٹ پر منہ مار رہے ہیں اس سے سچ کی خدمت کیسے ہو سکتی ہے اور رب کے کام کیسے جھوٹ کے ذریعے چلائے جا سکتے ہیں۔یہ مضمون ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کو دکھلا سکتا ہے یہ بات ، ان پر روشن کر سکتا ہے کہ وہ جہنمی لوگ ہیں۔اہل نارہی ہیں جو یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں۔خدا کے بندے تو حق کی نصیحت کرتے ہیں اور صبر کے ساتھ نصیحت کرتے ہیں۔وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (ص: 4) وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کا مطلب ہے سچ کہنے کی نصیحت کرتے ہیں، سچ بولنے کی نصیحت کرتے ہیں، سچا ہونے کی نصیحت کرتے ہیں مگر سچ کہہ کر ، سچ بول کر سچا بن کر۔” جال“ لفظ نے یہ عجیب کرشمہ دکھایا ہے بیک وقت ایک ہی فقرے میں دونوں مضمون پوری طرح داخل کر دیئے۔حق کی خاطر کام کرتے ہیں مگر حق طریقے سے۔سچ بولنے کی نصیحت کرتے ہیں، سچ بول کر۔بچے اعمال کی وصیت کرتے ہیں مگر سچے اعمال اپنی ذات میں پیدا کر کے۔پس اس پہلو سے اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو بالکل روشن کر دیا، خوب کھول دیا کہ ان پر یہ بات کھل جانی چاہئے تھی کہ حق کو اپنے لئے اپنی تائید میں کسی جھوٹے کی ضرورت نہیں ہے اور جس کو تم باطل بھی سمجھ رہے ہو اس کو بھی جھٹلانے کے لئے باطل کام نہیں آ سکتا اور حق تمہارے پاس ہے نہیں۔تو کیسا کھلا کھلا فیصلہ ہے کہ تم لازما جہنمی لوگ ہو۔یہ جہنمیوں کی عادات ہیں سمجھتے کیوں نہیں۔