خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 754
خطبات طاہر جلد 14 754 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1995ء نہیں ہیں اور بھی ہیں۔کچھ کمزور ہیں، کچھ نسبتا مضبوط ہیں، طرح طرح کے ایمان لانے والے ہیں اور ان کو ان کی فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ ان کے لئے بھی بخشش کی دعا مانگی جائے۔ان بے چاروں کو کہیں اپنی لاعلمی کی وجہ سے نقصان نہ پہنچ جائے، اپنی کمزوریوں کی وجہ سے وہ خدا کی بخشش سے محروم نہ رہ جائیں۔تو ان پر دوسروں کی فکر غالب آ جاتی ہے۔اس سے یہ بھی پتا چلا کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا استغفار اور اس استغفار کی کثرت دراصل ان سب کے لئے تھا یعنی ان کی کثرت اس لئے تھی کہ وہ استغفار ان سب کے لئے تھا جن کی ذمہ داری آنحضرت ﷺ پر ڈالی گئی تھی۔پس اس پہلو سے میں اب اس دعا کو یہاں ابھی چھوڑتا ہوں۔واپس جاتا ہوں عرش کے مضمون کی طرف۔يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ سے کیا مراد ہے؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی صراحت کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ خدا کسی چیز کا محتاج نہیں کہ وہ اسے اٹھائے۔اگر عرش پر جلوہ گر ہے، عرش پر جانشین ہے تو جو اسے اٹھائے گا گویا انہوں نے خدا کو اٹھایا ہوا ہے۔آپ نے فرمایا قرآن کریم تو بار بار فرماتا ہے کہ خدا نے ہر چیز کو اٹھایا ہوا ہے۔کوئی چیز بھی نہیں ہے جو خدا کے اٹھائے بغیر اٹھی رہ سکے تو اس کو کس نے اٹھانا تھا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت کے ساتھ ، استدلال کے ساتھ یہ ثابت فرمایا ہے کہ عرش تو مخلوق ہے ہی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ ہر قسم کی تخلیق کا ذکر کرتا ہے وہاں عرش کا ذکر نہیں کرتا اور تخلیق کے بعد عرش پر جلوہ گری کا ذکر فرماتا ہے اور ہمیشہ سے جلوہ گر ہی ہے عرش پر۔تو کیا اس نے اپنی سیٹ خود بنائی تھی ؟ اور اگر نہیں بنائی تھی تو اس کی طرح دائمی ہے تو دونوں پھر دوام میں ایک دوسرے کے شریک ہو گئے۔اسی لئے تمام چوٹی کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ عرش مخلوق نہیں ہے اور اس لئے مخلوق نہیں ہے کہ صفت ہے ایک اور صفات مخلوق نہیں ہوا کرتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عرش کے مضمون کو خوب کھولا ہے اور یہاں يَحْمِلُونَ الْعَرْش سے آپ کو سمجھ آجانی چاہئے کہ عرش سے مراد کیا ہے یہاں۔وہ خدا کے مومن بندے جو اللہ تعالیٰ کے غلبے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں، اپنی تمام طاقتیں پیش کر دیتے ہیں اور اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کو دنیا میں غالب کرنے کے لئے ان کی ذمہ داری ہوتی ہے، یہ وہ حمل ہے جس کی بات ہو رہی ہے۔پس وہ دعا جو آپ کرتے ہیں