خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 753 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 753

خطبات طاہر جلد 14 753 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1995ء یہ تھا کہ عرش کیا چیز ہے اور اس کے حوالے سے ہمیں بتائیں کہ کیا مطلب ہے عرش کو اٹھانا۔یہ تو میں بیان کروں گا انشاء اللہ لیکن اس آیت پر ایسی نظر ڈالنا تو لازم ہے تا کہ آپ اس کو اچھی طرح الٹ پھیر کر دیکھیں کہ کیا کہنا چاہتی ہے، اس میں کیا کیا خاص باتیں ہیں جو قابل توجہ ہیں۔تو ایک قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایمان کا پہلے ذکر نہیں فرمایا بعد میں فرمایا ہے۔اس موقع پر اس میں ایک خاص حکمت ہے۔اگر ایمان پہلے ہو تو انسان اس کو برائیوں سے پاک ہی سمجھتا ہے۔جو اپنا پیر ہے اس پر تفصیلی نظر ڈالی ہو یا نہ ڈالی ہولوگ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ ہر برائی سے پاک ہی ہے، ہر خوبی کا مالک ہے اور اکثر دنیا میں ایمان کی یہ حالت ہے بے چاروں کی کہ جن باتوں پر ایمان لاتے ہیں یا جن رسولوں پر بھی ایمان لاتے ہیں ان کی عظمت تو بہت ہے دل میں لیکن ایمان کی وجہ سے ان کی خوبیاں بیان کرتے ہیں، خوبیاں دیکھ کر بیان نہیں کرتے۔ایمان کی وجہ سے برائیوں سے پاک اور ان کی عصمت کے قائل ہوتے ہیں اور اگر کوئی ان کی عصمت پر انگلی اٹھائے تو اس انگلی کو کاٹ دیں گے بلکہ بعض دفعہ اسے بھی قتل کر دیتے ہیں مگر پتا ہی نہیں کہ عصمت ہے کیا چیز۔پس وہ مومن اور ہیں جوایمان کی خاطر اپنے پیاروں کی یا ان کی جن کے حق میں وہ ایمان لاتے ہیں گواہیاں دیتے ہیں کہ ہ ہر نقص سے پاک ہیں ، ہر خوبی کے مالک ہیں۔مگر اللہ جن کی بات کر رہا ہے یہ بہت عظیم لوگ ہیں۔فرمایا ہے ان کی نظر بہت ہی گہری اور وسیع ہے اور وہ دیانت داری کے ساتھ کامل یقین اور شہادت کے اصولوں پر پورا اترتے ہوئے یہ گواہی دیتے ہیں اور دیتے رہتے ہیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی ذات میں اس کی صفات کی جلوہ گری میں کبھی کوئی نقص نہیں پایا اور نقص کی بجائے ہمیشہ خوبیاں دیکھی ہیں۔یہ گواہی دینے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَيُؤْمِنُونَ بِہ ان کا ایمان دیکھو کس شان کا ایمان ہوگا۔اس کو حق الیقین کہا جاتا ہے۔وہ ایمان جو آگ کی گرمی محسوس کر کے پیدا ہوتا ہے۔وہ ایمان جو ٹھنڈا پانی پینے والے کو اس کی خوبیوں میں آتا ہے وہ ایمان اور طرح کا ہے اور ٹھنڈا پانی پیتے وہ دیکھا جائے کسی کو وہ ایمان اور ہے۔تو یہ حق الیقین لاتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو بخشش طلا کرنے کا حق عطا ہوتا ہے۔اب اللہ تعالیٰ یہ نہیں بیان فرما رہا کہ وہ اپنے لئے بخشش مانگتے ہیں۔وہ تو مانگتے ہی ہیں یہاں ان کا عظیم تر مرتبہ بیان ہو رہا ہے۔فرمایا وَ يَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُواوه بخشش مانگتے ہیں ان کے لئے جو ایمان لائے ہیں اور ایمان لانے والوں میں صرف یہ گواہ