خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 752
خطبات طاہر جلد 14 752 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1995ء صفت کو جس طرح دنیا میں عمل پیرا ہوتے انہوں نے دیکھا وہ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے کہیں بھی صفات الہی کی جلوہ گری میں کوئی نقص نہیں پایا یہ مضمون ہے تسبیح کا اور یہ بہت وسیع مضمون ہے اور اگر یہ مضمون نہیں تو تسبیح بالکل بے معنی ہے کیونکہ اگر آپ کسی شخص کے متعلق یہ اعلان کریں کہ وہ نقص سے پاک ہے اور آپ کو اس سے واقفیت ہی کوئی نہ ہو اور آپ نے زندگی کا بہت تھوڑا حصہ اس کے ساتھ گزارا ہو ، اکثر نا واقف ہوں، اس کی عادتوں کا علم نہ ہو، اس کے ماحول کا علم نہ ہو، دنیا کی عدالت بھی اس کو رد کر دے گی ، اس گواہی کو قبول نہیں کرے گی۔پس اللہ کی شان کے خلاف ہے کہ بعض لوگوں کی گواہی اپنے حق میں پیش کر رہا ہو اور وہ گواہ جھوٹے ہوں یا لاعلم ہوں۔پس ان مومنوں کی گواہی ہے جو اپنے دعوے میں خالص ہیں انہوں نے واقعہ تمام زندگی صفات باری تعالیٰ کی جلوہ گری کو دیکھا ہے اور جہاں بھی دیکھا ہے نقص سے پاک دیکھا ہے۔وہ میں الَّذِینَ۔بِحَمْدِرَ بھم اور پھر نقص سے پاک ہی نہیں دیکھا بلکہ ہر نقص کے مقابل پر جو مد مقابل صفت حسنہ ہے، ایسی خوبی ہے جو مثبت معنے رکھتی ہے اس کو بھی جلوہ گر دیکھا ہے۔اگر ایک شخص کے متعلق کہا جائے کہ وہ بد نظری نہیں کرتا تو یہ ایک پہلو سے نقص سے پاک ہونے کا اعلان ہے مگر اس کی نظر اور اچھے کاموں میں اگر استعمال نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے جلوؤں کا مشاہدہ محبت اور پیار سے نہ کرنے والی ہو ، اس کو پتا ہی نہ ہو کہ خدا کس طرح جلوہ گر ہوا ہے تو اس کے متعلق یہ گواہی بالکل ہی ناقص اور معمولی گواہی ہوگی۔مگر اگر وہ بد نظر سے پاک ہو اور حسن نظر رکھتا ہو تو پھر اس کی نظر میں ایک عجیب شان پیدا ہو جاتی ہے۔یہی مضمون ہے يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِم وہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرتے ہیں، نظر ڈالتے ہیں اور بالکل سچی گواہی دیتے ہیں، عینی گواہ کے طور پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔کہتے ہیں جہاں ہماری نظر گئی ہے ہم نے کبھی بھی صفات باری تعالیٰ میں کوئی نقص نہیں دیکھا اور اس کے برعکس تو در کنار ہمیشہ خدا تعالیٰ کی صفات کو مثبت، خوبصورت، دلکش، مفید عام صفات کے طور پر جلوہ گر دیکھا ہے۔یہ گواہی دینے والے ہیں جن کے متعلق فرمایا وہ عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں۔وَيُؤْمِنُونَ بِہ اور وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔اب یہ دلچسپ انداز ہے اس آیت کا کہ پہلے یہ گواہی دی ہے بعد میں فرمایا ہے وَيُؤْمِنُونَ بِے ایمان پہلے نہیں کہا گواہی پہلے دی ہے۔جو سوال کرنے والا تھا اس کا سوال تو