خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 745 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 745

خطبات طاہر جلد 14 745 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1995ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شعر ہے کہ اے بے خبر قرآن کی خدمت پر اپنی کمرکس لے ” زاں پیشتر اس وقت سے پہلے کہ بانگ برآید کہ آواز سنائی دے، ایک آواز بلند ہو ”فلاں نماند وہ نہیں رہا، وہ نہیں رہا یعنی اس دنیا سے اٹھ گیا ہے۔تو انصار اللہ کی عمر تو یہ یہ بانگیں سننے کی عمر آ گئی ہے جو ان کے جانے کے بعد دوسروں کو سنائی دے گی۔مگر اگر اچھے کام یہاں کر لیں گے، خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے محنت کریں گے، کچھ زادراہ بنالیں گے تو آسمان سے بھی تو ایک بانگ اٹھے گی جہاں اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا یا يَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارجعي إلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةَ ( الفجر: 28 - 29)اے میرے مطمئن نفس یعنی میری ذات سے مطمئن ہونے والے پیارے آجا، لوٹ کے میری طرف آجا رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً تو مجھ سے راضی ہے میں تجھ سے راضی ہوں۔تو دو قسم کی بانگیں ہیں جو بہر حال انجام کے وقت سنائی دیتی ہیں۔ایک جانے والوں کے لئے پیچھے اٹھتی ہے اور ایک جانے والوں کے استقبال میں آسمان سے اترے گی۔تو اس آواز کے لئے کیوں اپنے آپ کو تیار نہیں کرتے اور پھر ایسا تیار کریں کہ جن کو آپ اپنی دعوت الی اللہ کے نتیجے میں خدا کا قرب عطا کرنے میں ایک بہانہ بن چکے ہوں وہ آپ کی یاد میں ہمیشہ آپ کو دعائیں دینے لگیں۔محض فلاں نماند کی آواز میں نہ اٹھیں بلکہ یہ آوازیں اٹھیں کہ کاش وہ رہتا اور ہم چلے جاتے۔وہ ایسا پاک وجود تھا کہ اس کے جانے سے خلا ނ پیدا ہو گیا ہے۔پس انصار اللہ خواہ کینیڈا کے ہوں خواہ دنیا میں کسی جگہ کے ہوں ان کو خصوصیت کے ساتھ اس اپنی حیثیت کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ بحیثیت جماعت وہ ایک مرنے والی جماعت ہے یعنی مادی طور پر مرنے والی مگر اس طرح مریں کہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو چکے ہوں تو تب ان پر موت آئے۔مر کے جانا یعنی ہمیشہ کی موت کو قبول کر لینا یہ کوئی شعور کی بات نہیں عقل کی بات ہے، یہ بہت نقصان کا گھاٹے کا سودا ہے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ انصار اللہ دنیا میں ہر جگہ میرے اس پیغام کو غور سے سنیں گے، سمجھیں گے اور اپنے اندر اور اپنے میں سے جو کمزور تر ہیں ان کے اندر نئی زندگی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔