خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 746
خطبات طاہر جلد 14 746 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1995ء اور سب سے اچھا زندگی پیدا کرنے کا ذریعہ دعوت الی اللہ ہے۔دعوت الی اللہ کام ایسا ہے کہ جو دونوں طرف نفع بخش ہے۔جو بلاتا ہے اس کو بھی زندہ کرتا ہے، جس کو بلایا جاتا ہے وہ بھی زندہ ہو جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ سب سے زیادہ زندہ کے سپرد یہ کام کرتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے متعلق فرمایا کہ یہ بلانے والا جب بلائے تا کہ تمہیں زندہ کرے تو اس کی آواز پر لبیک کہا کرو۔پس زندگی یعنی روحانی زندگی ایک ایسی عظیم چیز ہے کہ جب یہ عطا کی جاتی ہے تو جس کو عطا کی جاتی ہے اس کی طرف سے عطا کرنے والے کو بھی ایک فیض ملتا ہے وہ اور بھی زیادہ زندہ ہو جاتا ہے اور جو زندہ ہو وہی زندگی بخش سکتا ہے غیر زندہ کو تو فیق نہیں ملتی۔پس وہ لوگ جو محنت کرتے ہیں اور پھل نہیں پاتے جب وہ دعائیں کرتے ہیں، فکر کرتے ہیں ان کے اندر تربیت کے لحاظ سے بھی ایک مربی بیدار ہو جاتا ہے، ایک دعائیں کرنے والا بزرگ ان کے نفس میں سے پیدا ہوتا ہے اور ہر پہلو سے وہ پہلے سے زندہ تر ہونے لگتے ہیں۔پس میں امید رکھتا ہوں جماعت مجموعی صرف انصار اللہ ہی نہیں آج کے اس دور کے اہم ترین تقاضے کو پورا کریں گے اور دعائیں مانگتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو تبلیغ کے میدان میں جھونک دیں گے۔جہاں تک ناروے کا تعلق ہے ناروے کی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے دن بدن ترقی پذیر ہے اور ہر پہلو سے ایسی ترقی کر رہی ہے کہ جس سے دل کو حقیقی خوشی پہنچتی ہے۔دعوت الی اللہ کا کام بھی جاری ہے اگر چہ اتنا زیادہ نہیں جتنا دوسری خوبیوں میں جماعت ناروے آگے بڑھ چکی ہے مگر اپنی توفیق اور حیثیت کے لحاظ سے خدا کے فضل سے بہت سی جماعتوں سے نسبتا آگے ہیں اور یہ روح دن بدن نمایاں ہو رہی ہے۔زیادہ احمدی جو پہلے تبلیغ کر رہے تھے ان میں مزید کے اضافے ہو رہے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ جماعت ناروے کو بھی باقاعدہ منظم طریق پر اب یہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کون ہے جو دعوت الی اللہ میں حصہ نہیں لے رہا۔ایسا آدمی اگر بیمار ہے، کمزور ہے یا ایسی خاتون ہیں جن کے بس کی بات نہیں یا ایسے آنے والے ہیں جو بڑی عمر میں پاکستان سے آئے اور ان کو زبان نہیں آتی ، کوشش کرتے ہیں تو بھی نہیں آتی ، اس گروہ کو بھی اگر خصوصیت سے منتظم کر کے دعاؤں پر ان کو مامور کیا جائے کہ تم نے دعائیں کرنی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان کا بھی حصہ ہو گا۔پھر اگر اور زیادہ عقل سے کام لیں تو دعاؤں کے بعد یہ سوچیں کہ ہر آدمی براہ راست