خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 728 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 728

خطبات طاہر جلد 14 728 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء آیت سے پہلے پانچ انبیاء کا اور ذکر ہے ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام ، ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام، ایک حضرت ہارون علیہ السلام، ایک حضرت اسحاق علیہ السلام اور ایک حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان سب کا ذکر فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ یہ نتیجہ نکالتا وَجَعَلْتُهُمْ أَبِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا (الانبياء: 74) ہے۔ہم نے یہ جو لوگ ہیں جن میں سے بعض نبی ہیں جن کا ذکر کیا ہے بعض دوسرے تھے جن کا پہلے ذکر گزرا ہے ان میں سے نبی چنے ہیں اور ان نبیوں کو ہم نے کیا مقام بخشا۔ان کو امام بنایا يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لیکن امام مہدی بنایا کیونکہ وہ ہماری ہدایت سے آگے ہدایت دیتے تھے۔ہدایت پا کر پھر ہدایت دینے والے کو مہدی کہتے ہیں۔اپنی طرف سے ہدایت دینے والے کو ہادی کہا جاتا ہے۔تو فرمایا وہ تمام انبیاء جن کا ذکر گزرا ہے وہ سب امام مہدی تھے یعنی اللہ نے ان کو امام بنایا اور ان کو مہدی بنا دیا ، ہدایت دی تو اللہ سے ہدایت پا کر آگے لوگوں کو دی۔کیوں کیا ایسا؟ سورہ السجدہ کی آیت نمبر 25 اس پر روشنی ڈالتی ہے۔فرمایا وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ أَبِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا یہ مرتبہ اور یہ مقام ان کو اس وقت عطا ہوا جب انہوں نے صبر کیا یا بوجہ اس کے کہ انہوں نے صبر کیا ان کو یہ بلند مرتبہ عطا کیا گیا۔تو مومن تو اپنی ذات میں خدا کے انعامات کا کوئی استحقاق نہیں پاتا خدا کے نبی سب سے زیادہ اپنی حقیقت کو سمجھتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ایک عجیب قانون چل رہا ہے وہ خود ہی نعمتیں عطا کرتا ہے اور ان نعمتوں کو بہانہ بنا دیتا ہے مزید نعمتوں کے لئے۔صبر بھی اسی نے عطا کیا اور اس کی طاقت کے بغیر صبر ممکن نہیں ہے، اسی لئے قرآن کریم نے صبر کے ساتھ دعا کے مضمون کو ہمیشہ باندھا ہے وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة (البقره: 46) مبر کے ساتھ اور صلوۃ کے ساتھ تم خدا تعالیٰ سے مدد مانگو اور سورہ عصر میں بھی نصیحت کے مضمون کے ساتھ صبر کو باندھا گیا ہے لیکن یہ سب اللہ کے احسانات ہیں جن کا ذکر چل رہا ہے ورنہ جب ساری دنیا گھاٹے میں ہو تو کسے توفیق مل سکتی ہے کہ وہ صبر کے ساتھ خوبیوں پر قائم رہے تو جہاں ظاہر نہیں بھی کیا گیا وہاں مضمون کا نقشہ بتا رہا ہے کہ صبر کی توفیق اللہ کے احسان کے سوامل نہیں سکتی۔پس انبیاء تو اپنے آپ کو ہمیشہ خالی ہاتھ پاتے ہیں اور جو بھی نعمتیں ان کو عطا ہوتی ہیں جانتے ہیں کہ اللہ کے فضل سے عطا ہوئی ہیں۔مگر اللہ نے کچھ استحقاق کے قوانین بنارکھے ہیں ان قوانین پر چلنے کی توفیق اسی سے