خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 725
خطبات طاہر جلد 14 725 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء شعاعیں پڑیں اور ہم میں سے ہر ایک گواہ ہے کہ ہر مشکل کے وقت اللہ نے ہماری راہنمائی فرمائی ہے، اسی نے ہماری تائید کی ہے۔اس عظیم ماضی کو دیکھتے ہوئے ہم پاگل تو نہیں ہو گئے کہ اب تو کل چھوڑ دیں۔پس آئندہ بھی خدا ہی ہمیں کافی ہے جو پہلے وکیل تھا وہ اب بھی وکیل ہے اور وکیل بنار ہے گا۔وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا أَذَيْتُمُونَا اب یہ جو توکل کے مضمون کی تیاری ہے اس نے صبر کے مضمون پہ پہنچا دیا۔تو کل کرنے والے جب تو کل کرتے ہیں تو یہ مطلب نہیں کہ ابھی مشکل پڑی اور ابھی حل ہو گئی۔جو یہ دیکھتے ہیں وہ تو کل نہیں ہوتا وہ تو نقد نقد کے سودے کے عادی ہوتے ہیں۔تو کل میں صبر کا مضمون داخل ہے۔تو کل ایسے حالات میں کیا جاتا ہے جبکہ ظاہری طور پر کوئی مدد نہ دکھائی دے اور پھر انسان کو یقین ہو کہ ایسا ہی ہوگا اور ہو کر رہے گا۔تو اللہ تعالیٰ تو کل کے مضمون کو کس لطافت کے ساتھ گھیرتے ہوئے جیسے مومنوں کو ہدایت کی راہیں دکھاتا ہے، ان کے ذہنوں کو بھی ہدایت کی راہیں دکھاتا ہے اور ایک مضمون سے دوسرے کی طرف ہاتھ پکڑ کر لے جاتا ہے۔فرمایا وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا أَذَيْتُمُونَا اب اس تو کل کی تعلیم کا نتیجہ یہ ہے کہ ضرور صبر کرتے کیونکہ اس راہ میں صبر کا پھل ہمیشہ ہم میٹھا پاتے کبھی تکلیفوں پر صبر کرتے ہوئے ہم نے بد نتیجہ دیکھا نہیں ہے۔اس لئے جو سبل کی طرف اشارہ تھا کہ سُبُلَنا ہماری راہیں خدا کے توکل کی وجہ سے آسان ہو گئیں اس میں یہ بھی اب دینی جو تکلیف ہے اس کو نمایاں طور پر پیش فرما دیا گیا کہ مومنوں کی راہوں میں کچھ ذاتی مسائل بھی ہوتے ہیں، کچھ دینی مسائل بھی ہوتے ہیں اور یہ وہ راہیں ہیں جہاں دینی تکلیفیں ضرور ان کو پہنچتی ہیں اور ان تکلیفوں کے نتیجے میں صبران کو تقویت دیتا ہے اور تو کل حوصلہ بخشا ہے کہ نتیجہ بہر حال اچھا نکلے گا کوئی دنیا کی طاقت اس نتیجے کو تبدیل نہیں کر سکتی۔پھر دوبارہ دہرایا گیا ، یہ کہنے کے بعد ہم ضرور صبر کریں گے اس پر جو تم ہمیں دکھ پہنچاؤ گے۔وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ اس تکرار میں یہ حکمت بھی ہے کہ پہلا مضمون اگر ذاتی مصائب سے تعلق رکھتا تھا تو یہ دوسرا مضمون خالصہ للہ اٹھائی جانے والی تکلیفوں سے تعلق رکھتا ہے۔جب خدا نے تمہاری ذاتی مسائل میں تمہیں نہیں چھوڑا، جب بھی تم نے صبر کیا اور اس پر تو کل کیا اس نے ہمیشہ تمہاری راہوں کو آسان کر دیا تو اب خدا کی خاطر اگر صبر کرتے ہوئے خدا کی خاطر تکلیفیں اٹھاتے ہو تو کیسے ممکن ہے