خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 726
خطبات طاہر جلد 14 726 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء کہ وہ خدا اپنی خاطر تکلیفیں اٹھانے والوں کو چھوڑ دے، ناممکن ہے۔پس اپنی ذات کے مسائل سے سبق لو ہمیشہ وہ تمہارے ساتھ غیر معمولی فضل کا سلوک فرماتا رہا ہے۔ہر مشکل سے نکالنے والا وہی تھا۔تو اب دین کی خاطر جو تم مشکل اٹھاؤ گے یا مشکل میں پڑو گے تو اس کا وہم بھی نہیں پیدا ہوسکتا کہ خدا جو تمہارے کاموں میں تمہارا مددگار تھا اپنے کاموں میں تمہارا مددگار نہ رہے۔وہ تو بدرجہ اولیٰ تمہاری مدد کے لئے اترے گا۔پس دینی معاملات میں بھی صبر ہی کی بدولت انسان تو کل کے اعلیٰ مقام کو پہچان سکتا ہے۔صبر اور توکل کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔صبر نہ رہے تو تو کل کی کمی کی نشاندہی ہوتی ہے اور تو کل نہ ہو تو صبر نہیں ہو سکتا۔یہ دو باتیں ایسی لازم و ملزوم ہیں کہ جب اس پر آپ مزید غور کریں تو آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی حکمتیں بعض صفات کو بعض دوسری صفات سے باندھ دیتی ہیں، غور کر کے دیکھیں تو الگ ہو ہی نہیں سکتی تھیں۔پس جہاں انسان اپنے مقصد کی کامیابی سے مایوس ہو جائے وہاں صبر نہیں رہتا، جہاں صبر رہے وہاں مقصد کی کامیابی پر یقین لازماً رہتا ہے کیونکہ بے مقصد صبر کوئی چیز نہیں ہے۔صبر کے مضمون کے دوسرے پہلو مختلف آیات کے حوالے سے میں بیان کر چکا ہوں۔یہاں اديْتُمُونَا والے پہلو پر خصوصیت سے میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔صبر دکھوں پر بے چین نہ ہونا، ہمت نہ ہارنا، ایمان کو ہاتھ سے نہ کھو دینا اور یقین اور کامل یقین پر قائم رہنے کا نام ہے لیکن صبر کئی قسم کے ہیں۔بعض صبر ایسے ہیں جن میں مجبوری ہے، دشمن دکھ دیتا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں کوئی اختیار نہیں ہے، یہ بے اختیاری کا صبر ہے۔اور یہ صبر اگر فضیلت بنتا ہے تو محض اس وجہ سے کہ اس صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں کو ادا کیا جاتا ہے جبکہ عام حالات میں وہ بہت مشکل کام ہے۔مثلاً ایک غریب آدمی اور ایک بے طاقت آدمی پر جب کوئی ظلم کرتا ہے تو بسا اوقات اور کچھ نہیں کر سکتا تو زبان سے گالیاں تو دے دیتا ہے، اتنا تو اس کا بس ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں اچھا پھر جو کرنا ہے کرو یعنی ہم نے اپنا بدلہ اتار لیا جو ہم میں طاقت تھی اتنا تو کر دیا اور یہ صبر نہیں ہے یہ بے اختیاری ہے۔مگر اگر گالی دینے کی طاقت ہے اور کوئی دکھ پہنچانے کی طاقت ہے اور خدا کی خاطر انسان رک جاتا ہے باوجود اس کے کہ عمومی غلبہ تو نہیں ہے مگر کچھ نہ کچھ دل کی بھڑاس نکالنے کی طاقت تو موجود ہے۔وہاں انسان جب تالے لگا بیٹھتا ہے محض اس لئے کہ اللہ نہیں چاہتا تو یہاں دوہرے