خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 722 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 722

خطبات طاہر جلد 14 722 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء کو پسند کر لیتا ہے اور چن لیتا ہے۔کسی غرض سے یمن ، احسان کرنے والے کے لئے یعنی خدا کا انتخاب احسان کے رنگ میں ہوتا ہے۔اس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا، یہ بحث نہیں کی جاسکتی کہ اسے کیوں چنا گیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے جہاں بھی ان بحثوں کو رد فرمایا ہے کہ کسی کا کوئی حق نہیں کہ یہ پوچھے کے اس کو کیوں یہ دیا گیا اس کی حکمت یہ ہے کہ فی ذاتہ کوئی انسان بھی کسی منصب کا مستحق نہیں ہے اور جسے اللہ چاہے وہ احسان کے طور پر اسے چلتا ہے اور جسے اللہ چاہے وہ مستحق ہو جاتا ہے پھر وہ مٹی بھی ہو تو اس سے آدم پیدا ہوتا ہے۔پس یہ وہ مضمون ہے جو بہت گہرا ہے۔مراد یہ ہے کہ اگر چہ ہمیں خدا کے انبیاء بہت بلند مرتبہ دکھائی دیتے ہیں اور یہ دلیل قائم کی جاسکتی ہے کہ خدا نے ان کی عظیم شان کے پیش نظر، ان کی اعلیٰ صفات کے پیش نظر ان کو چنا لیکن ایک اور دلیل بھی ہو سکتی ہے کہ خدا نے چنا اور مٹی سونا بن گئی، خدا کی نظر التفات پڑی تو کچھ سے کچھ ہو گئے۔انبیاء اپنے متعلق یہی نظریہ رکھتے ہیں۔انبیاء کے پیرو پہلے نظریہ کے قائل ہوتے ہیں مگر انبیا ء خود جب اپنے آپ کو دیکھتے ہیں تو کچھ بھی نہیں پاتے پس یہاں جو یمن کا لفظ ہے یہ بہت ہی اہم چابی ہے اس مضمون کو سمجھنے کے لئے کہ اللہ کی مرضی ہے ہم بھی تو تمہارے ہی جیسے انسان تھے مگر وہ جسے چاہتا ہے احسان کے لئے چن لیتا ہے۔وَمَا كَانَ لَنَا أَنْ نَأْتِيَكُمْ بِسُلْطَنٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ یہ مضمون اس تشریح کو، اس تفسیر کو تقویت دے رہا ہے۔خدا کے بندے، بچے بندے، عاجز بندے جب انہیں کوئی منصب عطا ہوتا ہے تو یہ نہیں کہتے کہ ہماری خوبیوں کی وجہ سے، ہماری صلاحیتوں کی وجہ سے یہ منصب عطا ہوا تھا بلکہ ہم بھی تو تم ہی جیسے تھے کوئی فرق نہیں تھا۔اس میں ان کی انکساری اس مضمون کو ایسے رنگ میں بیان کر دیتی ہے کہ بسا اوقات یہ محسوس ہوتا ہے کہ انکساری میں بھی مبالغہ کیا جارہا ہے ورنہ انبیاء کی پہلی حالت جبکہ ان کو منصب عطا نہیں ہوتا اس حالت سے مختلف ہوتی ہے جو قوم کی حالت ہو اور بہت نمایاں مختلف ہوتی ہے مگر انبیاء کی انکساری میں بھی کوئی مبالغہ نہیں ہے۔وہ اپنی پہلی حالت کو بھی اللہ کا احسان سمجھتے ہیں اور یقین جانتے ہیں کہ وہ حالت ان کو خدا سے اس لئے عطا ہوئی کہ ان سے خدا نے بڑے بڑے کام لینے تھے اگر ان کو وہ احسان والی حالت پہلے عطا نہ ہوئی ہوتی تو آئندہ مناصب کے لئے وہ موزوں ثابت نہ ہوتے۔