خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 716
خطبات طاہر جلد 14 716 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 1995ء بچوں سے رحم کا سلوک کرتے ہیں اور اس رحم کے سلوک کی یادیں ان کو پھر دعاؤں پر مجبور کرتی ہیں وہ اپنے بوڑھے، کمزور ماں باپ کے لئے دعائیں کرتے ہیں جیسے انہوں نے ہم پر رحم فرمایا تھا اے خدا تو اب ان پر رحم فرما۔تو یہ وہ مضمون ہے جس کو سمجھتے ہوئے ان بڑھتے ہوئے بوجھوں کو ہم اٹھا سکیں گے۔اگر ہم نے ان مضامین کو نہ سمجھا، اگر ان کا حق ادا نہ کیا، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح ہدایات اور روشنی کے باوجود اپنے بڑھتے ہوئے بوجھوں کو ہلکا کرنے کی کوشش نہ کی یعنی ہلکا ان معنوں میں کہ ہمیں ہلکے محسوس ہوں اور بڑھتے ہوئے ان معنوں میں کہ جتنے ہلکے محسوس ہوں اور بڑھتے چلے جائیں اور ہم انہیں ہلکا سمجھتے رہیں، یہ وہ کام ہے جس کام کے نتیجے میں دنیا میں انقلاب برپا ہوں گے۔وہ تو شروع ہو چکے ہیں ، ہور ہے ہیں لیکن فکر یہ ہے کہ یہ نہ ہو کہ ہمارے پھل ہماری طاقت سے آگے بڑھ جائیں۔جس طرح بعض دفعہ میں نے بیان کیا تھا کہ سندھ میں بھی میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ فصلیں بہت زیادہ ہوں تو مصیبت پڑ جاتی ہے زمیندار کو ، مزدور جن کو آنے کی عادت ہوتی ہے وہ اسی رفتار سے اسی تعداد میں آتے ہیں اور کپاس اتنی ہو گئی ہے اس سال یا مرچیں اتنی ہو گئی ہیں کہ وہ سنبھالی نہیں جاتیں ، وہ پھر ٹوٹ ٹوٹ کر مٹی میں ملتی اور گلتی ہیں ، مرچوں کی فصلیں تو میں نے دیکھا ہے بہت ضائع ہو جاتی ہیں اگر مزدور وقت پہ نہ ملیں تو۔تو آپ کی فصلیں تو مرچوں سے بہتر ہیں آپ کی فصلیں تو کپاس سے بہت زیادہ اعلیٰ درجے کی ہیں۔ان فصلوں کو سنبھالنا تو آپ کے لئے ایک زندگی کا روگ بن جانا چاہئے۔روگ ان معنوں میں کہ اگر ضائع ہو تو غم لگ جائے ، تکلیف محسوس ہو۔اور یہ آخری بات ہے جس کی طرف میں آپ کو اس خطبے میں توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جب تک آپ آنے والوں کی ذمہ داریوں کے غم نہ لگا لیں ، جب تک آپ اپنے کمزور بھائیوں کے غم نہ لگا لیں ، آپ کو ان کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی توفیق نہیں مل سکتی۔یہ غم ہے جو انسان میں طاقت پیدا کرتا ہے یہ اور طرح کا غم ہے جس کی میں بات کر رہا ہوں۔ایک ماں کا غم ہے اپنے بچے کے لئے جو جانتی ہے کہ میرے دوسرے بچوں میں تو بڑی صلاحیتیں ہیں اس میں بھی ہونی چاہئیں تھیں مگر یہ کمزور رہ گیا ہے۔کئی مائیں ہیں بعض دفعہ ملاقات میں رو پڑتی ہیں کہ یہ بچہ پتا نہیں کیوں دین کی طرف نہیں آ رہا