خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 708
خطبات طاہر جلد 14 708 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 1995ء ہے کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ جھانک کر اس کے گھر میں دیکھے اگر ایسا کرے گا تو خدا خود اس کو بے پردہ کر دے گا۔اس لئے جہاں تک ظاہر کا تعلق ہے اگر کوئی شخص ظاہر کی شرائط پوری کرتا ہے اور عام طور پر دین دار اور متقی دکھائی دیتا ہے اور مالی قربانی میں حسب استطاعت حصہ لیتا ہے اور اگر کمزوری ہے تو پھر اپنی ناطاقتی ظاہر کر کے طاقت کے مطابق بوجھ اٹھانے کا وعدہ کرتا ہے تو ایسے شخص پر ذمہ داری ڈالی جاسکتی ہے۔مگر جب عہدے دار بنایا جائے تو پھر سب کی نظر ہوتی ہے اور لوگ دیکھتے ہیں کہ کس قسم کا عہدے دار ہے۔اگر وہ مالی قربانی میں پیچھے ہے تو یہ اچھا نمونہ نہیں ہوتا ، جماعت پر بداثر پڑتا ہے۔اس مجبوری کے پیش نظریہ میں اعلان کر رہا ہوں، پہلے بھی کر چکا ہوں کہ عہدوں کو چھوڑ کر دوسرے کام سپرد کریں اور اگر آپ کام سپرد کریں گے تو کاموں کی برکت سے پھر ان کے دل بھی کھلیں گے اور ان کی دوسری کمزوریاں بھی دور ہوں گی کیونکہ ایک حصے میں طاقت پیدا ہو تو اس سے دوسرے حصے میں بھی بسا اوقات طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔تو اس پہلو سے لازم ہے کہ ہم جماعت میں زیادہ سے زیادہ کارکن پیدا کریں کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بہت بڑے بڑے بوجھ پڑنے والے ہیں اور ان کے لئے جو ہم دعا مانگتے ہیں کہ ہماری طاقت سے بڑھ کر ہم پر بوجھ نہ ڈال تو یہ مراد نہیں ہے کہ طاقت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی۔دراصل یہ وہ مضمون نہیں ہے جو میں نے کہا تھا کہ کم کی دعا مانگی جارہی ہے۔اصل میں دعا مانگی جارہی ہے زیادہ سے زیادہ کی۔ہماری جتنی طاقت ہے اتنا بوجھ ڈال دے اور جب طاقت کے مطابق بوجھ پڑے تو طاقت ضرور بڑھتی ہے اگر استطاعت سے زیادہ نہ ہو تو اگر استطاعت سے زیادہ بوجھ ہو تو طاقت ٹوٹ جاتی ہے اور انسان کا جسم اس زیادہ بوجھ سے پارہ پارہ ہو جاتا ہے، اس میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔اس لئے دعاؤں کے مضمون کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا ہماری طاقت کے مطابق بوجھ ڈال دے ہم پر ، ہم حاضر ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اگر ایک دن میں ہیں میل چل سکتا ہے تو یہ دعا کر رہا ہے کہ اے خدا ہمیں میل ضرور چلا ، اس سے زیادہ نہیں لیکن جو بیس میل چلے گا اس کی طاقت بڑھ جائے گی اور یہ دعا اس کا پیچھا نہیں پھر چھوڑے گی۔اگلی منزل پر یہ دعا پھر حاضر ہو جائے گی، اس کو پکڑلے گی کہ تم نے تو یہ کہا تھا نا کہ مجھے طاقت کے مطابق