خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 704
خطبات طاہر جلد 14 704 خطبہ جمعہ 22 /ستمبر 1995ء غیر معمولی صلاحیتیں عطا کی ہیں ہم ایسے نکتے ہیں کہ انہیں استعمال نہیں کر سکے جس کی وجہ سے سر دست ہم میں طاقت نہیں ہے۔اس کے بعد اسی لئے مغفرت کا مضمون شروع ہوا ہے رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا وقفة وقدت طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا اے خدا ہم سے عفو کا سلوک فرما ہمیں بخش دے جو ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں، کوتاہیاں ہوئی ہیں، تو نے ہمیں صلاحیتیں عطا کیں اور ہم استعمال نہ کر سکے اور اب ہمیں عادت نہیں رہی اور پھر وَارْحَمْنَا جس طرح کمزور بچے کو ، جس کو چلنا نہ آئے حالانکہ چلنا چاہئے آپ جب چلنا سکھائیں گے تو کچھ تکلیف اسے پہنچے گی لیکن آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آٹھ سال کے ہو گئے ہو اب تم نے ضرور اتنا ہی چلنا ہے جس طرح باقی بچے چلتے ہیں۔اگر ماں باپ کی غلطی سے یا کچھ اور معاشرے کی خرابی سے اسے ٹانگیں استعمال کرنے کی طاقت نصیب ہی نہیں ہوئی تو پھر رحم کا معاملہ ہے، پھر شروع میں رحم کیا جاتا ہے اور بچوں کے ساتھ اسی مضمون میں خدا تعالیٰ نے رحم کا مضمون بھی بیان فرمایا ہے اور بوڑھوں کے ساتھ بھی، جیسا کہ فرمایا رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَارَ بَيْنِي صَغِيرًا ( بنی اسرائیل: 25) دعا سکھائی انسان کو کہ اے اللہ میرے ماں باپ پر اسی طرح رحم فرما جس طرح بچپن میں رحم کے نتیجے میں ہماری تربیت کیا کرتے تھے اور ہماری صلاحیتوں کو اجاگر کیا کرتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ نے جو صلاحیتیں بخشی ہیں اللہ کا حق ہے کہ ان تمام صلاحیتوں کے مطابق آپ پر بوجھ ڈالے۔لیکن آپ سے کوتا ہی ہوئی ہم سے کوتاہی ہوئی ، ہم ان صلاحیتوں کے باوجو د سوتے رہے ، غفلتوں میں پڑے رہے، ان کو استعمال نہ کر سکے اس کے نتیجے میں اب ناطاقتی محسوس کرتے ہیں، تھوڑا سا کام بھی دیا جائے تو بوجھ محسوس ہوتا ہے۔اس کا کیا علاج ہے؟ اس کا علاج ایک تو یہ دعا ہے، دوسرے کام ڈالنا ہے کمزوروں پر۔یہ علاج نہیں ہے کہ کمزوروں کے سپر د کام نہ کیا جائے اور جتنے بھی اچھے ورکر ، اچھے کارکن خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو مہیا ہوئے ہیں، شاذ ہی ان میں سے ایسے ہوں گے جو بچپن ہی سے اچھے کام کرنے والے تھے ، جن کو فطرتا شروع ہی سے اللہ تعالیٰ نے اس طرف رجحان عطا کیا تھا۔بڑی تعداد ان میں سے ایسی ہے جو بظاہر نکھے محسوس ہوتے تھے۔نہ کام کی عادت، نہ کام کا پتا، نہ کام کا تجربہ اور دیکھنے میں لگتا تھا بھلا ان پر بوجھ ڈالو تو کیسے اٹھا سکیں