خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 695 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 695

خطبات طاہر جلد 14 695 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء مضا مین گہرے ہوتے ہیں، بار بار سننے پڑتے ہیں، اس کے لئے ہمیں بار بار سنانے ہوں گے اور اس کے علاوہ Audiance بدلتے رہتے ہیں، ٹیلی ویژن Viewers بدلتے رہتے ہیں یہ تو نہیں کہ وہ ہر وقت ٹیلی ویژن سے چمٹا ہوا ہے۔آج کسی نے کھولا، کل کسی نے کھولا ، آج کسی کو کوئی وقت میسر آیا کل کسی کو کوئی اور وقت میسر آیا اسی طرح لوگ دیکھتے ہیں۔بعض دفعہ جن علاقوں میں آدھی رات کو ٹیلی ویژن کے پیغامات پہنچ رہے ہوتے ہیں وہاں سے آدھی رات کو یا اس کے بعد بھی ایک سننے والا سنتا ہے اور ہمیں خط لکھتا ہے کہ رات میں دیکھ رہا تھا تو اچانک MTA ظاہر ہوا اور اس میں یہ دلچسپ بات میں نے دیکھی ، مجھے بتائیں کہ آپ کے پروگرام مستقلا کن کن لوگوں کے لئے کن کن زبانوں میں جاری ہیں وغیرہ وغیرہ۔تو یہ بہت ہی ضروری کام ہیں جو ہونے والے ہیں لیکن اس کے لئے وقت کی بھی بہت ضرورت ہے۔وقت کا اللہ تعالیٰ نے انتظام پہلے بھی کیا تھا آئندہ بھی مجھے کامل یقین ہے کہ کرے گا۔کیونکہ گزشتہ ایک سال سے میرے دل میں یہ تڑپ پیدا ہو رہی ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں چوبیس گھنٹے کے ٹیلی ویژن عطا کرے۔اب تین گھنٹے یا چار گھنٹے یا چھ گھنٹے کی بات نہیں رہی۔وہی’دوواں دا ویلا“ والی بات ہے۔وہ آپ کو لطیفہ سنا چکا ہوں مگر جرمنی کی جماعت کو لطیفوں کا بڑا شوق ہے اس لئے میں پھر سنادیتا ہوں۔وہ ایک دفعہ کشتی پر ایک چوہدری اور اس کے ساتھ ایک میراثی سوار ہوئے اور پنجاب کا دستور تھا اور بھی جگہوں پر ہوگا، کہ جب کشتی گرداب میں آتی ہے تو کشتی والا ملاح آواز دیا کرتا تھا کہ سائیں خضر کے نام پر کچھ خیرات ڈال دوور نہ ہلاک ہو جاؤ گے۔تو عام طور پر چوہدری صاحب جب بھی میراثی کو ہرانے کی کوشش کرتے تھے میرائی زیادہ ذہین، زیادہ طاق اور چاک و چوبند تھا، وہ ہمیشہ بات الٹادیا کرتا تھا۔تو چوہدری صاحب کو خیال آیا کہ اب موقع ہے اس سے انتقام لے لوں اور انتقام لینے کی ایسی سوجھی کہ وہ میراثی بے چارہ کھودا تھا، اس کی داڑھی پر صرف دو بال تھے اور چوہدری کی بھر پور داڑھی تھی۔چوہدری صاحب نے جب آواز سنی کہ خواجہ خضر کے نام پر کچھ خیرات دے دینی چاہئے تو چوہدری صاحب نے بلند آواز سے کہا کہ آج بجائے پیسوں کے بہتر ہے کہ داڑھی کے دو بال اتار کر نوچ کر ہم دریا میں ڈال دیں۔مراد یہ تھی کہ میراثی کی تو صرف داڑھی ہی یہ ہے، ساری داڑھی اکھڑ جائے گی۔تو میراثی مڑ کے بولا ” چوہدری جی ایہہ دوواواں دا ویلا اے“ کون ہے وہ