خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 65
خطبات طاہر جلد 14 65 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء گناہ گار ہی مرتا ہے لیکن اللہ نے جو تقدیر مغفرت کی جاری فرمائی ہے، جو دلوں کی پاک تبدیلی پر نظر رکھتا ہے۔جو خالصہ اللہ کی خاطر ایک تبدیلی کے خواہش مند کی کوشش کو جس طرح خدا د یکھتا ہے یہ وہ ساری باتیں اس تمثیل میں بیان ہوئی ہیں اور یہ مضمون بھی بیان ہو گیا کہ کیوں یہ دعا کرو۔وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ( آل عمران : 195 ) کہ اے اللہ ہمیں نیکوں کے ساتھ نیکوں کی معیت میں وفات دینا۔ہوسکتا ہے بدیوں کی حالت میں بھی وفات آ جائے مگر اللہ کی نظر میں اگر وہ چاہے تو ہر شخص کی موت جس کے حق میں وہ فیصلہ کرے نیکوں کی موت شمار ہو سکتی ہے۔پس یہ دو اہم مضامین ہیں جن کی طرف میں رمضان میں داخل ہونے سے پہلے آپ کو متوجہ کرتا ہوں اور آپ سے یہ خصوصیت سے توقع رکھتا ہوں کہ اس رمضان میں اپنے لئے بھی یہ دعائیں کریں گے اور میرے لئے بھی یہ دعائیں کریں گے اور جماعت کے تمام دوسرے کمزوروں اور نیکیوں کے لئے برابر یہ دعائیں کریں گے کیونکہ اگر خدا کی نظر سے دیکھا جائے تو حقیقت میں کوئی بھی نیک نہیں اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کو جب نیک کہا گیا تو آپ نے کہا نہیں میں نیک نہیں ہوں وہی ایک نیک ہے۔حقیقت میں نیکی کا شعور در جے رکھتا ہے اور میلی آنکھ سے وہ حقائق نظر نہیں آتے جو صاف شفاف آنکھ سے نظر آتے ہیں۔اس لئے دو باتیں ہیں جو بہت ہی بنیادی ہیں ہماری بخشش اور نیک انجام کے لئے۔ایک تو یہ کہ اللہ وہ شعور پیدا کر دے جس شعور کے نتیجے میں وہ شخص جس کا تمام سینہ بدیوں کا شہر بن چکا تھا باوجود اس کے کہ موت سے پہلے وہ اسے نیکیوں کے شہر میں تبدیل نہیں کر سکا۔مگر اللہ کی مغفرت کی آنکھ نے اسے اس طرح دیکھا کہ اس کی اس کوشش ہی کو قبول فرمالیا۔تو ایک تو یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر بھی وہ شعور بیدار کر دے اور یہ رمضان اس حالت میں ہم پر گزرے کہ یہ شعور بیدار بھی ہو اور پھل بھی لائے اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی آواز ہم سنیں اور پھر اس رمضان سے گزریں۔اور دوسرے جب وقت آئے تو پھر فاصلے اس طرح نہ نا پے جائیں جو انصاف کے ترازو سے جیسے تولا جاتا ہے یا انصاف کے گزوں سے فاصلے ناپے جاتے ہیں۔رحمت کے ترازو سے ہم تو لے جائیں اور رحمت کے گزوں سے ہمارے فاصلے ناپے جائیں۔یہی ایک صورت ہے جو مغفرت کی صورت ہے۔تو اپنے لئے اپنے بھائیوں کے لئے ، اپنے عزیزوں کے لئے ، میرے لئے ، میرے