خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 692
خطبات طاہر جلد 14 692 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء فضل سے، یہ چونکہ آسمان سے اترا ہے واكِيْدُ گیڈا کی یہ ایک تفسیر ہے اس لئے دیکھیں کہ یہ روک رہے ہیں پھر بھی لوگ سنتے چلے جا رہے ہیں۔وہ لوگ جو احمدیت کے نام سے بھی نا آشنا تھے MTA کے ذریعے نہ صرف آشنا ہوئے بلکہ خطوط لکھتے ہیں کہ ظلم ہے ہمارے لئے اتنا تھوڑا پروگرام ہمیں زیادہ پروگرام دو، ہم روزانہ یہ پروگرام سننا چاہتے ہیں، کبھی بھی آج تک ہم نے کسی ٹیلی ویژن کو اسلامی پروگرام پیش کرتے نہیں دیکھا اگر کوئی حقیقت میں اسلامی پروگرام ہے تو وہ MTA کا پروگرام ہے اور یہ آواز پھیل رہی ہے ، اس کی مقبولیت پھیلتی چلی جا رہی ہے۔مولوی جتنا چاہیں زور لگائیں اور لگا رہے ہیں کوئی ان کی نہیں سنتا اور زیادہ سے زیادہ لوگ ہمارے Transponder کی طرف رخ کر کے لگاتے ہیں بلکہ بعض ممالک میں تو حیرت انگیز مجھے اطلاع ملی ، عرب ممالک کی بات کر رہا ہوں کہ ایک احمدی وہاں وہ ڈش انٹینا کا کام کرتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ، دو دفعہ کی بات نہیں اب تو اکثر یہ ہورہا ہے کہ جب مجھے ڈش انٹینا لگانے کے لئے بلایا جاتا ہے تو کہتے ہیں تم MTA لگا سکتے ہو کہ نہیں اگر MTA نہیں لگا سکتے تو جاؤ ہم تم سے نہیں لگوائیں گے۔اتنی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔اب اس آسمان سے اترنے والی مقبولیت کا یہ کیا جواب رکھتے ہیں ان کی کوئی پیش نہیں جاسکتی۔لیکن اس ضمن میں جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا پہلے بھی بہت سے کاموں کی ضرورت ہے، ابھی بہت سے منصوبوں کی ضرورت ہے ، وہ منصوبہ خدا بناتا ہے اس کی تائید میں پھر زمین پہ بھی منصوبے بننے چاہئیں۔جس رخ پہ خدا ہوائیں چلاتا ہے اس رخ پر مومن کو بھی تو آگے بڑھنے کی جد و جہد کرنی چاہئے۔ہواؤں کے رخ پر چلنے کے لئے ٹانگوں کا استعمال چاہئے اور وہ مومن جن کو خدا نے پر پرواز عطا کئے ہوں، اڑنے کی طاقت ہو ان کو ہواؤں کے رخ پہ اڑتے چلے جانا چاہئے لیکن ٹانگوں کا استعمال نہ کریں، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خاص صلاحیتوں کو جن کو میں مومن کے پر کہہ رہا ہوں، ان کو اگر آپ استعمال نہ کریں تو پھر ان ہواؤں کا کیا فائدہ۔اس ضمن میں جرمنی کی جماعت خصوصیت سے اس وقت میری مخاطب ہے۔باقی دنیا کی جماعتیں بھی اسی ذیل میں آتی ہیں مگر میں اس وقت آپ کے ملک میں کھڑا ہو کے یہ خطبہ دے رہا ہوں۔آپ لوگوں کی کارروائیاں دیکھی ہیں جس طرح خدا کے فضل سے آپ لوگ محنت کر رہے ہیں