خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 688 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 688

خطبات طاہر جلد 14 688 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء صلى الله تھے کہ رسول اللہ ﷺ فاقوں کی وجہ سے ہم سے بھی زیادہ کمزور ہو چکے ہیں لیکن جب سخت چٹان کو دیکھا کہ کسی طاقتور کی چوٹوں سے بھی نہیں ٹوٹتی تو محمد رسول اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کچھ کریں۔آپ کے کدال کی چوٹیں جو بھی آلہ مارا جاتا ہے اس کی چوٹ سے کچھ ہو تو ہو ہمارے بس کی بات تو نہیں رہی اور آنحضرت ﷺ کو ان سے زیادہ اپنے رب پر ایمان تھا جتنا محمد رسول اللہ ﷺ پرصحابہ کو ایمان تھا۔آپ نے گینتی اٹھائی اور فرمایا چلو دکھا ؤ کہاں ہے وہ۔پہلا وار کیا اور اس میں سے ایک شعلہ نکلا اور پھر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور اس چٹان کا ایک حصہ ٹوٹ گیا۔پھر آپ نے دوسری بار گینتی کو اٹھایا اور بڑے زور سے اس پر وار کیا اس میں سے بھی شعلہ نکلا اور آنحضرت ﷺ نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔پھر تیسری دفعہ بھی ایسا ہی ہوا اور وہ مضبوط چٹان جو طاقتور صحابہ کی چوٹوں سے بھی ٹوٹتی نہیں تھی وہ اس حالت میں ریزہ ریزہ ہوگئی کہ پھر آگے اس کو توڑنا ایک آسان کام ہو گیا۔ریزہ ریزہ نہیں ایسا شگاف اس میں پڑ گیا کہ جس کے نتیجے میں پھر آگے اس پر کام کرنا مشکل نہ رہا۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ شعلے نکلتے تھے اور آپ اللہ اکبر کے نعرے کیوں بلند کرتے تھے؟ آپ نے بتایا کہ جب پہلی دفعہ شعلہ بلند ہوا تو خدا نے مجھے کسری کے محلات کی چابیاں دکھا ئیں۔پھر دوسری دفعہ شعلہ بلند ہوا تو فلاں علاقے خیبر کی چابیاں یا جس علاقے کا بھی وہ ذکر کیا تھا مجھے اس وقت تفصیل یاد نہیں ، تین دفعہ آپ کے ہروار کے نتیجے میں آپ کو ایک ایسی خوشخبری دی گئی جو دفاع کی نہیں بلکہ فتح کی خوش خبری تھی۔یہ وہ مضمون ہے جہاں انسانی تدبیر کام چھوڑ بیٹھتی ہے اور الہی تدبیر کا دائرہ شروع ہوتا ہے اور یہی دعا کا مضمون ہے اور یہ آنحضرت ﷺ کی دعا ہی تھی جس نے یہ عظیم الشان نتیجہ پیدا کیا ورنہ انسانی طاقت یا بس میں کہاں یہ بات تھی کہ اس وقت جبکہ اپنی جان کے لالے پڑے ہوں، جبکہ خندق تک کھودنا دشوار ہورہا ہو، جب یہ ممکن نہ ہو کہ ایک چٹان ہی کو تو ڑسکیں اس وقت یہ خبر دے سکے کوئی انسان کہ میں کسری کے محلات کی چابیاں اپنے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں اور فلاں قلعے کو فتح ہوتے دیکھ رہا ہوں اور فلاں قلعہ کو فتح ہوتے دیکھ رہا ہوں اور بعینم ویسے ہوا۔پس یہ مضمون ہے فَمَهْلِ الْكُفِرِيْنَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنے ہاتھ تو ڑ کر بیٹھ رہو۔مراد یہ ہے کہ جو کچھ بس چلتا ہے کر گز رو اور پھر بھی تم دیکھو گے کہ تمہاری