خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 687
خطبات طاہر جلد 14 687 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء اصلا شروع ہو چکی تھی اور پیشتر اس کے کہ دشمن ہجوم کر کے مدینے میں داخل ہوتا، اس کی راہ میں یہ خندق کھودی جا چکی تھی اور محنت ایسی تھی کہ اس کی کم مثال دنیا میں ملتی ہے۔وقار عمل آپ لوگ بھی کرتے ہیں بہت خوشی ہوتی ہے دیکھ کے بڑی محنت کرتے ہیں اور پھر دل چاہتا ہے کہ اس محنت کی داد بھی ملے اور مجھے بھی وقار عمل کے بعد خط ملتے ہیں کہ اس طرح ہم نے اتنے دن وقار عمل کیا۔مگر وہ وقار عمل جو غزوہ خندق کے موقع پر کیا گیا اس کی کیا شان تھی، اس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔صحابہ پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے ، دن رات مسلسل محنت میں مصروف تھے۔کھانے کو روٹی میسر نہیں تھی۔قسمت سے کچھ کھانے کومل جاتا تو اسی پر گزارہ کرتے تھے اور اتنی تنگی کی حالت تھی کہ صحابہ جو بہت ہی صبر سے کام کر رہے تھے۔ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کے کہا یا رسول اللہ ﷺ اب تو حد ہو گئی ہے۔اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھایا۔ایک صحابی نے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! دیکھیں پیٹ پر پتھر بندھا ہوا ہے یعنی بھوک کی شدت سے جو درد ہوتی ہے، تکلیف ہوتی ہے اس کو روکنے کے لئے عربوں کا دستور تھا کہ پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے۔آنحضرت ﷺ نے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھایا تو اس پر دو پھر بندھے ہوئے تھے۔آپ نے فرمایا تمہارا رہنما ہوں لیکن کسی محنت میں تم سے پیچھے نہیں ہوں۔ہر محنت ، ہر قربانی میں تم سے آگے ہوں۔یہ مضمون ہے فَمَهْلِ الْكَفِرِينَ أَمْهِلُهُمْ رُوَيْدًا۔یہ کہاں سے نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ بیٹھے رہو چپ کر کے، ہاتھ پہ ہاتھ دھر لو اور جو کچھ ہے خدا اوپر سے کرتا رہے گا۔ان لوگوں کے لئے کرتا ہے جو اپنی طاقت کے انتہائی ذرے ذرے کو بھی خدمت دین میں جھونک چکتے ہیں اور پھر کوئی بس نہیں پاتے ، پھر بھی کوئی راہ نہیں پاتے۔پس اس حال میں صحابہ نے خندق کھودی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کے نشان دکھائے۔ساتھ ساتھ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی دعائیں تھیں جو مومنوں کو یقین دلا رہی تھیں کہ اس خندق کے ذریعے نہیں بلکہ آسمان پر ایک کارروائی ہونے والی ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف ہماری حفاظت ہوگی بلکہ ہمیں دنیا پر عظیم غلبہ عطا ہوگا۔اسی خندق کھود نے کے دوران ایک موقع پر ایک ایسی سخت چٹان حائل ہو گئی کہ اگر اس کو توڑا نہ جاتا تو خندق بیکار ہو جاتی کیونکہ ایک خندق کا حصہ ایسا ہوتا جو دونوں کناروں کو ملائے رکھتا اور اس کے نتیجے میں خندق کا مقصد ہی زائل اور باطل ہو جاتا۔اب صحابہ کی بھی رسول اکرم ﷺ سے عزت اور محبت اور پھر آپ پر ایمان کی حالت کو دیکھیں۔جانتے