خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 686 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 686

خطبات طاہر جلد 14 686 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء اب اس کی ایک مثال ہمارے سامنے جنگِ احزاب کی صورت میں ہے۔جنگِ احزاب کے وقت تمام عرب رسول اکرم ﷺ اور آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں کو ہلاک بلکہ صفحہ ہستی سے نابود کرنے کا عزم لے کر اٹھ کھڑا ہوا تھا اور تمام قبائل نے مدینے کا گھیرا ڈال لیا تھا اور ایسا سخت گھیرا تھا کہ جس کو تو ڑ کر باہر سے نہ کوئی غذا حاصل کی جاسکتی تھی ، نہ کوئی پیغام بھیجا جاسکتا تھا اور ایک ہی ذریعہ دفاع کا جو انسان کے بس میں تھا وہ یہ تھا کہ خندق کھودی جائے اور دشمن کے حملے کی راہ میں کچھ روک حائل کرنے کی کوشش کی جائے۔پس فَمَهْلِ الكَفِرِینَ أَمْهِلُهُمْ رُوَيْدًا کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ بیٹھ جاؤ اور کچھ نہ کرو اب خدا کرے گا۔خدا نے تو کرنا تھا اور کیا لیکن کیسے کیا اور اس عرصے میں مومن کیا کرتے رہے یہ بات میں آپ کو غزوہ خندق کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔دن رات محنت کر کے آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے ایک خندق کھودنا شروع کی۔بڑی سنگلاخ زمین تھی ، سخت پتھر تھے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خوراک کی حالت ایسی گر گئی تھی کہ کئی لوگوں کو مسلسل فاقے کرنے پڑتے تھے لیکن بوڑھے، بچے جوان سارے اس کام میں شامل رہے۔پس آنحضرت ﷺ سے بہتر وحی الہی کو کون سمجھتا تھا۔آپ نے یہ نہیں کیا کہ بیٹھے رہو، اللہ بھی تدبیر کر رہا ہے، دشمن نے بھی تدبیر کی ہے بلکہ اس غزوہ خندق میں اس مضمون پر اور بھی کئی پہلوؤں سے روشنی پڑ رہی ہے۔سرحد پر گھوڑے باندھنے کا مضمون ہے۔آنحضرت ﷺ کی نظر تمام عرب قبائل پر تھی اور جو کچھ وہاں ہور ہا تھا اس کی اطلاعیں ملتی تھیں۔اگر یہ اطلاعیں حملے سے بہت پہلے آپ کو حاصل نہ ہوتیں تو خندق کیسے کھودی جاسکتی تھی۔وہ خندق کوئی ایک دو دن کا کام تو نہیں ہے، مہینوں کی محنت درکار تھی۔تمام صحابہ کی قوت یعنی انفرادی قوت کو جمع بھی کر لیا جاتا تو یہ ایک بہت سخت کام تھا کہ مدینے کو چاروں طرف سے جہاں جہاں سے بھی دشمن کے اچانک حملے کا خدشہ ہو وہاں سے خندق کے ذریعے دشمن کو پہنچ سے دور کر دیا جائے اور خندق اتنی گہری ہونی چاہئے کہ اچانک کوئی اس کو پاٹ نہ سکے۔اتنی چوڑی ہونی چاہئے کہ تیز رفتار گھوڑے بھی چھلانگیں لگا کر اس کے پار نہ اتر سکیں۔تو یہ خندق کھودنا کون احمق ہے جو سمجھتا ہے کہ چند دنوں کی بات تھی اور اس خندق کی اطلاع بھی دشمن کومل رہی ہوگی۔لیکن تیاری اس وقت شروع کر دی تھی حضور اکر میں اللہ نے جبکہ دشمن کے منصوبے ابھی بالکل آغاز میں تھے اور وہ فوجیں جمع کر رہا تھا ابھی اس کا نظام مکمل نہیں ہوا تھا کہ ادھر خندق