خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 682 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 682

خطبات طاہر جلد 14 682 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 1995ء ان اندھیروں کو پھاڑنے کے لئے کئی قسم کی کارروائیاں ممکن ہیں۔ایک تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بیدار مغزی سے ہر وقت کی نگاہ رکھنا۔جہاں احتمال ہو کہ حملہ ہوگا وہاں حملے سے پہلے تیاری کرنا اور بھر پور جوابی کارروائی کرنا۔بعض جگہ جب ایسا کیا گیا تو جب ان کو ورغلانے کے لئے دشمن پہنچا ہے تو انہوں نے خود دھکے دے کر نکال دیا ہے۔انہوں نے کہا تم نے ہمیں کیا بتانا ہے۔ہم جانتے ہیں تم کیا کہتے ہو اور اس کا جواب بھی ہمارے پاس ہے۔تمہارے پاس سوائے جھوٹ کے ذریعے ورغلانے کے اور کچھ بھی نہیں۔پس ایک تو یہ مستعد رہنے کا نسخہ ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔آنکھیں کھولنا ہر وقت ، صرف آنکھیں کھولنا نہیں بلکہ آگے بڑھ کر دور تک نظر رکھنا۔سرحدوں پر گھوڑے باندھنے کا ایک یہ بھی مطلب ہے کہ سرحد پر کھڑے ہوئے انسان کی نظر سرحد پار پر پڑتی ہے اور جو مرکز میں بیٹھا رہے اس کی نظر زیادہ سے زیادہ اپنی سرحد تک جائے گی اس لئے اس کو ہمیشہ Surprise مل سکتی ہے لیکن جو کناروں پر کھڑا ہے وہ عقابی نظروں سے جائزہ لیتا ہے۔دور دور تک اس کی نگاہ پڑتی ہے۔وہ دیکھ رہا ہے کہ وہاں کیا تیاری ہو رہی ہے، کیا کام ہو رہے ہیں۔پس اس پہلو سے میں امید رکھتا ہوں کہ صرف جماعت جرمنی ہی نہیں دنیا کی تمام وہ جماعتیں جو اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے دعوت الی اللہ کے کام میں بڑی مستعدی سے آگے بڑھ رہی ہیں وہ نظر رکھیں گی اور باقاعدہ اس کام کے لئے شعبے بنائیں گی اور وہ شعبے اس بات پر وقف رہیں گے کہ ہر وقت دشمن کی سازشوں پر نظر رکھیں اور جب نظر پڑتی ہے تو اس کے بعد جوابی کارروائی ہونا بھی تو ضروری ہے اس کے لئے بھی ایک ایسا مرکزی نظام قائم ہونا چاہئے کہ جو ہر اطلاع پر بروقت جوابی کارروائی کرے جو کارروائی بر وقت نہ ہو اس سے بھی کوئی فائدہ خاص نہیں پہنچتا کیونکہ پیشتر اس کے کہ کارروائی ہو کچھ نقصان پہنچ جاتا ہے۔وہ انسان جو بیمار دفاعی نظام رکھتے ہیں ان پر جب بیرونی حملہ ہوتا ہے تو بعض اوقات اتنا آہستہ جوابی کارروائی ہوتی ہے کہ وہ بیماری ایک مزمن بیماری بن جاتی ہے یعنی Chronic Disease بن جاتی ہے۔دفاع بھی ہو رہا ہے، ادھر سے جوابی حملہ بھی جاری ہے، کوئی ایک نتیجہ نہیں نکلتا۔اس کو طبی اصطلاح میں کہتے ہیں کہ ریزولیوشن Resolution نہیں ہو رہا۔لڑائی جاری ہے مگر کسی ایک طرف کسی ایک کروٹ پر اونٹ بیٹھتا نہیں۔کوئی قطعی، یک طرفہ نتیجہ ظاہر نہیں ہوتا۔مگر صحت مند جسم