خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 667
خطبات طاہر جلد 14 667 خطبہ جمعہ 8 ستمبر 1995ء ساتھ کیا معاملہ ہونا چاہئے۔مگر یا درکھیں کہ یہ بلاغ اس طاقت کا تھا اور اس میں اتنی گہرائی اور سچائی پائی جاتی تھی کہ قرآن کریم نے ہمیشہ کے لئے حضرت نوح کے بلاغ کو قرآن کریم میں یعنی اس دانگی سچائی میں محفوظ فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ نوح میرے بندے کی ذاتی طاقت تو بس اتنی سی تھی کہ خوداس کا اپنا بچہ بھی اس کی نصیحتوں کے نتیجے میں نیک نہ بن سکا تو پھر اور کون ہے جو نوح سے بڑھ کر ابلاغ کا دعویٰ کرے اور نوح سے بڑھ کر با اثر ہونے کا دعوی کرے۔پس نہ خدا کے کسی نبی کو کبھی یہ توفیق ملی کہ زبر دستی کسی کے اندر نیکی پیدا کر دے نہ حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ سے اللہ نے یہ تقاضا فر مایا کہ اٹھ اور تلوار پکڑ اور ان کے ٹیڑھے دلوں کو سیدھا کردے یا تلوار کی دھار سے دو نیم کر ڈال بلکہ یہ فرمایا کہ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِرْتُ نَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرِ (الغاشیہ: 22، 23 ) اے محمد ﷺ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرَ تُو تو ایک نصیحت کرنے والے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔محض نصیحت کرنا تیرا کام ہے۔لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرٍ تو ان پر داروغہ مقرر نہیں فرمایا گیا۔اب دیکھیں کہ جو شخص اپنی حیثیت کو پہچانتا ہو جیسا کہ اللہ کے نبیوں نے پہچانا اور اپنے دائرہ کار میں رہے تو پھر کیسی کیسی بے اختیاریوں اور بے بسیوں کا سامنا اس کو کرنا ہوگا۔ایک طرف ایک نبی کا دل ہے کہ جو چاہتا کہ ساری قوم کو آنِ واحد میں خدا کے رستہ پر ڈال دے ایک طرف محمد رسول اللہ ﷺ کا دل تھا جس کی تمنا تھی کہ ساری کائنات کو خدا کے قدموں میں لا ڈالے لیکن اپنے مکہ کی بستی بھی آپ کی آواز پر لبیک نہیں کہہ رہی تھی اور حکم یہ تھا کہ تجھے کوئی اختیار زبر دستی کا نہیں۔ایسی صورت میں کیوں دل سے دعا ئیں نہ اٹھیں۔اگر دل سچا ہے اور دل کی بے قراریاں کچی ہیں، اگر یہ بے اختیاری کا احساس انسان کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے تو ایک ہی راہ ہے کہ جو دعائیں دل سے اٹھ کر عرش تک راہ پاتی ہیں اور اس راہ کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہے۔پس جب میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ ان نئے آنے والوں کو بھی نمازی بنادیں، آپ بھی نمازی بنیں، اپنے گردو پیش کو بھی نمازی بنا ئیں تو میں جانتا ہوں کہ ہماری استطاعت میں کچھ بھی نہیں ہے مگر بلاغ تو ہے نا اور اگر ہم اپنی حیثیت سمجھتے ہوں اور جیسا کہ میں نے مثال دی تھی بعض نادانوں کی اپنے بچوں کو نصیحت قبول نہ کرنے پر ان پر غیظ و غضب کا مظاہرہ نہ کرتے ہوں، ان پر گالیاں دے