خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 660 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 660

خطبات طاہر جلد 14 660 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء لغویات کی ضرورت ہی کوئی نہیں ہوتی۔پس بعض لوگ کنجوسی میں بھی ایسا کرتے ہیں یہ کوئی نیکی کی علامت نہیں ہے۔یہ ترک شر ہے اور شہر بھی ایسا جس کی زندگی اور بقاء کے لئے ضرورت نہیں اور نفس پر اس کے ترک کرنے میں کوئی مشکل نہیں۔وو۔۔لیکن اپنا محنت سے کمایا ہوا مال محض خدا کی خوشنودی کے لئے دینا یہ کسب خیر ہے جس سے وہ نفس کی ناپا کی جو سب ناپاکیوں سے بدتر ہے یعنی بخل دور ہو جاتا ہے۔۔۔“ (روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 204) تو میں امید رکھتا ہوں کہ ان تشریحات کی روشنی میں جماعت ہر جگہ اپنے اخراجات کے ان مخفی گوشوں پر نگاہ رکھے گی جن کا نیتوں سے تعلق ہے جن کا ایسے حالات سے تعلق ہے جن پر خدا آگاہ ہے یا قربانی کرنے والا آگاہ ہے۔اگر ان نصیحتوں کو جو قرآن اور حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام سے لی گئی ہیں آپ غور سے سن کر احسان کا طریق اختیار کرنا شروع کریں گے تو غیر معمولی برکتیں حاصل ہوں گی اور آئندہ زمانے کی جتنی ضروریات جماعت کی بڑھ رہی ہیں ان سے بھی بہت زیادہ آسمان سے اترے گا۔اتنا احسان اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قربانیوں کے نتیجے میں کہ جو اموال وہ عطا کرے گا وہ واقعہ سنبھالنے مشکل ہوں گے لیکن خدا کرے کہ یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے وہ بڑھتے ہوئے اموال پھر خدا کے قدموں پر نچھاور کئے جائیں اور پھر وہ اس کثرت سے بڑھیں کہ ان کو سنبھالنا پھر مشکل ہو جائے۔پھر نچھاور کریں اور پھر نچھاور کریں یہاں تک کہ خدا کی ساری کائنات ان خرچ کرنے والوں کی کائنات بن جائے۔وہ عَبْدًا مَّمْلُو گا نہ رہیں بلکہ مالک کی ملکیت میں شامل ہو جائیں اور یہی وہ آخری مضمون ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام، آنحضرت ﷺ کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں۔سب نبیوں میں ایک ہی نبی ہے جو ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ تک پہنچا ہے اور اس نے سب کچھ خدا کی خاطر قربان کر کے اس کی ہر ملکیت میں سے حصہ پالیا۔پس اگر کسی نبی کو صفت ملکیت میں شامل سمجھا جاسکتا ہے تو حقیقی معنوں میں وہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔پس ہمارے سردار ﷺ کو یہ زیبا ہے اور آپ نے کر کے دکھایا ، ہم غلاموں کو بھی تو اس میں سے حصہ ملنا چاہئے۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین