خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 657 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 657

خطبات طاہر جلد 14 657 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق دونوں ادا ہور ہے ہیں اور ان کے درمیان ایک حسین توازن پایا جاتا ہے۔یہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ کے حوالے سے بیان کر رہے ہیں۔پس مِمَّا تُحِبُّونَ میں اللہ کے خرچ ہی شامل نہیں، بنی نوع انسان کے خرچ بھی شامل کر دیئے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے۔محبت تو اموال سے ہے مگر ایسی محبت نہ ہو کہ اپنی خاطر ہی خدا کو دیے جاؤ کہ تمہیں پتا لگے کہ آئندہ ہماری تجوری میں پڑے گا سب کچھ بلکہ اس کے بندوں کا خیال کرو، دل نہیں بھی چاہتا تو بنی نوع انسان کی ہمدردی میں کچھ مال ان کو دے دو، چلیں نہ سہی چندہ مگر اچھے کام پر ہی خرچ ہوا ہے نا۔یہ تمہاری تربیت کا موجب بنے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو زیادہ پسند کرتا ہے کہ تم ہر طرف کے حقوق ادا کر و بجائے اس کے کہ ایک ہی طرف جھک جاؤ کیونکہ ایک طرف جھکنا اور اللہ کی محبت اکٹھے چلتے نہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دراصل ایک طرف جھکنا نفسانیت سے پردہ اٹھا رہا ہے نہ کہ محبت الہی سے کیونکہ محبت الہی کرنے والوں کو ہم نے کبھی ایک طرف جھکتے نہیں دیکھا۔بہت پیار کرنے والی طبیعتیں ، ہر ایک کا خیال رکھنے والے جیسے رحمان بندوں میں حضرت رسول اللہ تے تھے، آپ کی یادوں کے تذکروں میں سبھی بتاتے ہیں کہ ہم زیرا احسان رہے۔پس یہ نہیں کیا کہ سارا خدا پر خرچ کیا یعنی نچوڑ نچاڑ کے ایک طرف دین کے لئے دے دیا اور بندوں کو فائدے سے محروم رکھا۔مگر چونکہ کرتے محبت الہی میں تھے اس لئے ہر دوسرا خرچ بھی اللہ نے اپنے کھاتے میں ڈال دیا اور وہ خرچ جو انسان اللہ کے کھاتے میں ڈالتا ہے دراصل اپنے کھاتے میں ڈالنے کی خاطر، مجھے ڈر ہے کہ وہ اس کے کھاتے سے نکال کر اللہ کے کھاتے سے نکال دیا جائے گا اور اس میں بھی جو بظاہر نیکی ہے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔یہ ایک احتمال ہے جس کا ذکر کر رہا ہوں۔اللہ بہتر جانتا ہے وہ زیادہ رحمان رحیم ہے ہو سکتا ہے ایسے لوگوں سے بھی صرف نظر فرمائے اور ان کی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے ان کی قربانیوں کے اچھے نتیجے نکالے۔مگر اس مضمون نے جو مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا اس احسان والی آیت کا ایک اور مضمون بھی ہمیں سمجھا دیا۔وَاحْسِنُوا کا مطلب ہے احسان کرو اور وَاحْسِنُوا کا وہ مطلب بھی ہے جو میں بیان کر چکا ہوں، سجا کر پیش کرو، قربانیوں کو زیادہ اچھا بناؤ۔مگر اس کے وسیع معنوں میں بنی نوع انسان پر احسان داخل ہے۔پس ہرگز بعید نہیں کہ اس آیت کریمہ میں وَاحْسِنُوا سے یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ