خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 656 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 656

خطبات طاہر جلد 14 656 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء یہاں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عارفانہ کلام کے حوالے سے ایک اور وضاحت کرنی چاہتا ہوں۔بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ دنیا میں سخت کنجوس رہتے ہیں ایک پیسہ بھی کسی دوسرے پر خرچ کرنے کے روادار نہیں ہوتے مگر دینی معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور قربانیاں کرتے ہیں۔بعض تجارتی قوموں میں یہ رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔ان کے نام لینے کی ضرورت نہیں، اتنی تفصیل سے ذکر کرنا بھی مناسب نہیں کہ بعض لوگوں کو پتا لگ جائے کہ کن کی باتیں کر رہا ہوں مگر اتنا مانیں کہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے دامادوں تک پر بھی خرچ کے روادار نہیں ، اپنی بیٹی کو بھی تنگی میں رکھتے ہیں مگر دین کی خاطر بعض دفعہ بڑے بڑے خرچ کرتے ہیں اور آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ان کی کنجوسی دراصل یہاں بھی ظاہر ہورہی ہے کیونکہ یہ نفسانیت کی ایک اعلیٰ قسم ہے۔وہ اپنا سارا مال اپنے لئے رکھنا چاہتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اللہ کو دیں گے وہ ہمارا ہی رہے گا وہ کسی اور کو نہیں ملتا۔پس یہ بھی ایک نفسا نفسی کا ہی عالم ہے اور یہ نفسانیت اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ غریبوں پر خرچ ویسے نہیں کرتے ، روزمرہ ضرورت مند پر خرچ نہیں کرتے ، ایتاء ذی القربیٰ کا حکم ہے، اقرباء پر خرچ نہیں کرتے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ ایمان کا اول تقاضا تو یہی ہے کہ اللہ کی خاطر انسان خرچ کرے مگر ایمان کے دوسرے تقاضے کو نہ بھولنا۔وہ لازم کرتا ہے کہ خدا کے بندوں پر بھی خرچ کرو۔پس ایسا شخص کسی معنی میں بھی حریص کنجوس نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ کے انبیاء میں سے ایک مثال بھی نظر نہیں آئے گی جو خدا کی خاطر خرچ کرنے کے بہانے بنی نوع انسان سے فوائد روک لیں۔وہ اپنی بیویوں پر خرچ کرتے ہیں، اپنی اولاد پر بھی خرچ کرتے ہیں، روز مرہ آنے والے کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں اور پھر اللہ پر بھی خرچ کرتے ہیں اور اللہ کی خاطر اول طور پر خرچ کرتے ہیں، زیادہ محبت اور ولولے اور جوش سے خرچ کرتے ہیں۔ان کا ہر دوسرا خرچ بھی اللہ کا خرچ بن جاتا ہے۔ہر وہ خرچ جو بنی نوع انسان کی ہمدردی میں کرتے ہیں وہ اول تو ان کو متوازن بناتا ہے اور ان کو حقیقی طور پر اللہ کی طرف سے اکرام عطا ہوتا ہے لیکن یہ ان کی نیت میں نہیں ہوتا یہ اللہ کا انعام ہے محض۔دوسرے یہ کہ یہ توازن ہے جو دراصل مذہب کی جان ہے۔صراط مستقیم اسی توازن کا نام ہے۔نہ ایک طرف زیادہ جھکاؤ ہے نہ دوسری طرف زیادہ جھکاؤ ہے۔متوازن زندگی ایسی ہے کہ اللہ