خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 655
خطبات طاہر جلد 14 655 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء ایک اور تعبیر میں ضمناً آپ کو بتادوں کہ اگر دیکھے کہ گند میں ہاتھ ڈالا ہے، فضلے کو اکٹھا کیا ہے تو بڑی مکروہ تصویر ہے لیکن اس کی تعبیر مال ہوتا ہے اور بسا اوقات خوا ہیں جو مجھےلوگ لکھتے ہیں اس تعلق میں کبھی مال کے نقصان کی خبر دی جارہی ہوتی ہے کبھی مال حاصل کرنے کی مگر ساتھ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ کوئی خاص عظیم الشان فضل نہیں ہے بلکہ فضل تب بنتا ہے جب یہ فضلہ رزق طیبہ، رزق حسنہ میں تبدیل ہو اور وہ رزق حسنہ میں تبدیل تب ہوتا ہے جب اپنی حیثیت مٹی میں مل کر کھو دیتا ہے اور پھر اس سے بیج نشو ونما پاتے ہیں اس سے ہری بھری تازہ فصلیں نکلتی ہیں تو جب اس مال کو جو فضلے کی طرح ہے، گندگی کی طرح ہے آپ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی مثال ایسی ہو جاتی ہے جیسے ایک پیج سے ایک کونپل نکلے پھر اس میں سات شاخیں ہوں، سات بالیاں لگیں ہر شاخ میں اور ہر بالی میں سوسو دانے ہوں۔تو وہ کیا چیز ہے جو اس نے خرچ کی تھی وہ یہی فضلہ یعنی دنیا کی دولت اس نے خرچ کی تھی اور وہ مٹی میں جا کر اس قدر برکت کا موجب بنی ہے کہ اس نے آگے ایک ایک دانے کو سات سات سو دانوں میں تبدیل کر دیا۔تو تعبیر میں بھی بہت حکمت کی باتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جس تعبیر کا ذکر فرمارہے ہیں اس کا جگر سے تعلق ہے فرماتے ہیں:۔۔۔یہی وجہ ہے کہ حقیقی اتقاء اور ایمان کے حصول کے لئے فرمایا لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ حقیقی نیکی کو ہرگز نہ پاؤ گے جب تک تم عزیز ترین چیز نہ خرچ کرو گے۔کیونکہ مخلوق الہی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے اور ابنائے جنس اور مخلوق الہی کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے جو ایمان کا دوسرا جزو ہے۔“ ایمان کا اول جزو تو اللہ تعالیٰ کی محبت اور اسی کا ہو رہنا ہے اور دوسرا جز و بنی نوع انسان کی ہمدردی ہے اور ان کے لئے خرچ کرنا ہے فرماتے ہیں۔وو۔۔۔جب تک انسان ایثار نہ کرے دوسرے کو نفع کیونکر پہنچا سکتا ہے۔دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لئے ایثار ضروری شے ہے اور اس آیت میں لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ میں اسی ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔