خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 61
خطبات طاہر جلد 14 61 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء ہر فرمان کی اطاعت کرتا ہوا، لبیک کہتے ہوئے ، اس کے حضور حاضر ہو۔اس راہ میں ہر انسان کی کمزوریاں حائل ہو جاتی ہیں، اس کی غفلتیں ، اس کی کوتاہیاں ، اس کی لغزشیں اور انبیاء سے نیچے نیچے جتنے طبقے کے بھی نیک لوگ ہیں ان میں بھی بار ہا لغزشیں دکھائی دیتی ہیں۔ان کو نہیں دکھائی دیتیں جو غیب کی نظر سے ان کو دیکھ رہے ہیں لیکن خود ان کو اپنی ذات میں دکھائی دے رہی ہوتی ہیں اور ان میں بھی پھر مختلف مدارج ہیں۔ایک شخص اپنی ذات کا زیادہ شعور حاصل کر لیتا ہے اور وہ اپنے گنا ہوں سے زیادہ واقف ہوتا چلا جارہا ہے۔ایک شخص نسبتا کم شعور رکھتا ہے وہ اسی حد تک اپنے گناہوں سے کسی حد تک غافل رہتا ہے۔جب یہ شعور پوری طرح بیدار ہو جائے تو اتنی قوی طاقت ہے کہ انبیاء بھی اپنے حال پر نظر کرتے ہیں تو ان کو کمزوریاں دکھائی دینے لگتی ہیں اور وہ بھی دن رات استغفار میں مشغول ہو جاتے ہیں۔پس باوجود اس کے کہ انبیاء ہر معیار کے مطابق معصوم ہیں لیکن اندرونی آنکھ جب روشن ہو جائے تو ایسی روشن ہو جاتی ہے کہ معمولی سا داغ ، معمولی سانقص بھی کسی اندھیرے میں چھپارہ نہیں سکتا۔کھل کر ہر چیز دکھائی دینے لگتی ہے اور استغفار کا تعلق اس مضمون سے بہت گہرا ہے اور یہی ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔استغفار کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ انسان ڈھانپنے کے لئے اللہ سے التجا کرے کہ یہ تنگ بھی میرا ظاہر ہو گیا، یہ منگ بھی ظاہر ہوگیا، اسے ڈھانپ دے اور جب تک علم نہ ہو کہ کون کون سا ننگ انسان میں موجود ہے، کون کون سے گناہوں سے انسان داغ دار ہے، اس وقت تک استغفار دل سے حقیقت میں اٹھ ہی نہیں سکتی اور اس میں بھی پھر آگے درجے ہیں۔بعض انسان گناہ کرتے ہیں اس سے نفرت بھی پیدا ہوتی ہے، اس سے کراہت بھی محسوس کرتے ہیں لیکن اپنی نفس لوامہ کی استطاعت سے، اس کی حد سے باہر دیکھتے ہیں یعنی ایک طرف نفس ہے جو ملامت کئے چلا جا رہا ہے دوسری طرف نفس امارہ ہے جو حکم دیتا چلا جارہا ہے اور کبھی وہ امارہ کے تابع کام کر جاتے ہیں اور کبھی لوامہ کے تابع روتے اور خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے ہیں۔ایک جدوجہد ہے جو مستقل جاری رہتی ہے۔لیکن یہ بھی شعور کی حالت کا ایک نام ہے۔شعور کی وہ حالت جو گناہوں کے وجود کا احساس کرتی ہے اور پھر اس پر ندامت محسوس کرتی ہے، اسے مٹانے کی کوشش کرتی ہے۔یہ کوشش کرتی ہے کہ یہ داغ بھی دھل جائے اور داغ پیدا کرنے والا مرض بھی جڑوں سے اکھیڑا جائے۔بعض دفعہ استغفار سے اور رونے