خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 653 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 653

خطبات طاہر جلد 14 653 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء خرچ کئے تھے اور یہ پہلا قدم ہے صرف یقین دلانے کی خاطر۔اگر پانچ ہزار ایک سوخرچ کیا تو اچانک ایسی جگہ سے پانچ ہزار ایک سو ہی ملے گا جو یہ پیغام دے گا کہ اللہ تعالیٰ نے دیکھ لیا ہے ، تو نے دیا تھا یہ تو اپنا واپس لے لے اور باقی حساب بعد میں چلے گا جو مزید فضلوں کا حساب ہوگا اور پھر آتا وہاں سے ہے جہاں کسی کا ذہن جاہی نہیں سکتا۔مدتوں پہلے کوئی تجارت کی ، وہاں حساب میں کوئی غلطی ہوگئی، سالہا سال تک اس کمپنی نے توجہ نہ کی آخری حساب فہمی ہوئی تو اتنے روپے مل گئے جتنے روپے اس شخص نے ایک دن پہلے یا ان کی اطلاع ملی جو ایک دن پہلے اس نے خدا کی خاطر پیش کئے تھے اپنی مجبوریوں کے باوجود، اپنی ضرورتوں کے پیٹ کاٹ کر۔تو اللہ تعالیٰ جب اتنے ہی دیتا ہے تو یہ مراد نہیں ہے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے دس گنا کا وعدہ پورا نہیں کیا یا ستر گنا کا وعدہ پورا نہیں کیا۔جو مزہ اتنے میں ہے وہ ہزاروں لاکھوں میں ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ بعینہ اتنا یہ اطلاع دے رہا ہے کہ میں نے دیکھ لیا ہے تم فکر نہ کرو تم میری نظر میں ہو اور مجھے تمہاری یہ ادا پسند آ گئی ہے۔تو جو خفی قربانیوں کے مزے ہیں جو وہ جہاں ہے وہ چیز ہی اور ہے۔وہ قربانیاں بعض دفعہ ظاہر بھی ہوتی ہیں میں نے جیسا کہ بیان کیا ہے مجھے بھی مثلاً لوگ لکھتے ہیں لیکن وہ لمحے جو فیصلہ کن لمحے تھے وہ خالصہ مخفی تھے وہ دنیا کے دکھاوے سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں رکھتے تھے۔پھر بعد میں وہ چندوں کی فہرست میں بھی آجاتے ہیں، ان کو رسیدیں بھی کاٹ کے دی جاتی ہیں مگر ان کی مخفی نوعیت خدا کی نظر میں پھر بھی مخفی رہتی ہے کیونکہ یہ تو پھر اب نظام جماعت کے کاروبار ہیں اور اس نے کوئی نہ کوئی تو رسیدیں کاٹنی ہیں حساب رکھنا ہے۔مگر فیصلہ کرنے والا جو عین خدا کی نظر میں راتوں کے وقت یا دوسرے اختفاء کے پردوں میں فیصلہ کرتا ہے اس کی قربانی خدا کے حضور مخفی ہی لکھی جاتی ہے اور اس لئے صبح کے وقت جو فرشتے اٹھتے ہیں وہ سب سے پہلے اس خرچ کرنے والے کو دعا دیتے ہیں جو لازماً راتوں کے وقت یا دوسرے اخفاء کے پردوں میں فیصلہ کرتا ہے اس کی قربانی خدا کے حضور مخفی ہی لکھی جاتی ہے اور اس لئے صبح کے وقت جو فرشتے اٹھتے ہیں وہ سب سے پہلے اس خرچ کرنے والے کو دعا دیتے ہیں جس نے لازما راتوں کو بھی خرچ کیا ہو کیونکہ صبح کے فرشتوں نے تو دن کا حال دیکھا ہی نہیں اس سے میں استنباط کر رہا ہوں کہ راتوں کو کچھ دیکھی ہیں باتیں ان فرشتوں نے جو صبح کو آکر ان کی نظر کے سامنے آتی ہیں تو کہتے ہیں اے خدا اس بندے کو بہت دے اور ان کے اموال میں پھر بہت