خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 652 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 652

خطبات طاہر جلد 14 652 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء اس کو کوئی فائدہ پہنچا سکی نہ اس کی اولاد کو اور تسکین قلب سے وہ لوگ محروم رہ گئے کئی ایسے لوگ آئے دن خبروں میں پتا چلتا ہے بڑے بڑے متمول لوگ خود کشی کر کے مرجاتے ہیں۔ابھی انگلستان ہی میں پچھلے چند سال ہوئے وہ شخص جو امیر ترین اور اخبارات کے اوپر بھی بہت زیادہ مؤثر انسان تھا، غیر معمولی اثر رکھتا تھا ، وہ ایک عیش و عشرت کے ٹرپ پر Yacht میں یعنی سمندری کشتی میں جو بہت ہی زیادہ عیاشی کے سامانوں سے مزین تھی اس میں بظاہر سیر کے لئے نکلا ہے اور خود کشی کر کے مر گیا۔بعد کے حالات سے پتا چلا کہ وہ دیکھنے میں تو بہت کچھ تھا لیکن اس کے اموال بھی ختم ہو چکے تھے، اس کی خوشیاں بھی جاتی رہی تھیں اور جب آخری حساب کتاب ہوئے تو پتا چلا کچھ بھی اس کا نہیں رہا۔تو خدا کی تقدیریں مخفی طور پر روحانی لذتیں بھی ایسے بدنصیبوں کی لوٹ لیتی ہیں اور مالی طور پر بھی بالآخر نقصان پہنچ جاتے ہیں۔مگر وہ نہ بھی پہنچیں تو ہلاکت کی دعا ان معنوں میں ضرور پوری ہوتی ہے کہ اپنی دولت کے مقاصد حاصل کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔پس دو قسم کے بدنصیب ہیں ایک وہ جو دولت ہاتھ میں ہوتے ہوئے بھی، اسی دولت کے غلام بن جاتے ہیں اور مالک کی بجائے مملوک ہو جاتے ہیں۔کچھ ہیں جو خرچ کرتے ہیں مگر دنیا پر خرچ کرتے ہیں اور ان کا خرچ انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا تا اور ان کوکوئی تسکین نہیں بخشا اور پھر وہ ہیں جو خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں ان کے اموال کے بڑھنے کی دعا کی گئی ہے اور یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس کو آج دنیا میں سب سے زیادہ جماعت احمد یہ جانتی ہے۔خرچ کرنے والوں کے حق میں جو فرشتے دعائیں دیتے ہیں حیرت انگیز طور پر پوری ہوتی ہیں۔ایک تو عمومی صورت میں دن بدن جماعت کے اموال بڑھتے چلے جاتے ہیں۔اتنی برکت مل رہی ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے دیکھ کر اور دوسرے وہ خاندان جن کے بزرگوں نے قربانیاں دیں میں بار ہا آپ کو بتا چکا ہوں انہیں کا فیض ہے کہ اب ان کی اولادوں کے رنگ بدل چکے ہیں اللہ کے فضل کے ساتھ۔پھر انفرادی طور پر آئے دن میرے سامنے مثالیں ملتی ہیں کہ یہ موقع تھا یہ رقم تھی ہم نے سوچا کہ فلاں مقصد کے لئے جس کی خاطر رکھی گئی تھی وہ ہیں خرچ کریں یا اب موقع ہے دین کے لئے خرچ کر دیں۔وہ مخفی فیصلے کا وقت تھا اس وقت انہوں نے سوچا کہ دیکھا جائے گا خرچ کر دیتے ہیں۔اب خدا تعالیٰ تو بڑھا کر دیتا ہے مگر جہاں یہ دکھانا ہو کہ میں نے دیکھ لیا وہاں بعینہ اتنے دیتا ہے جتنے