خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 651
الله خطبات طاہر جلد 14 651 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء بِكُمُ الدَّوَابِرَ وہ چاہتے ہیں تم پر بھی گردش ایام آ جائے اور مصیبت سے ان کو چھٹکارا نصیب ہو۔ایسے لوگ ہی نہ رہیں جو یہ ہر وقت خدا کے نام پر مانگنے کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیم اور اللہ تعالیٰ بہت سنے والا اور بہت جاننے والا ہے۔سننے والا اس لئے کہ یہ جو بات کہہ رہے ہیں وہ بے آواز ہے۔تو فرمایا ان کے دل کی آواز جو ابھی لفظوں میں نہیں ڈھلی ، اللہ وہ بھی سن رہا ہے اور بعضوں کے خیالات لفظوں میں نہیں ڈھلے ہوئے ہوئے ان کو بھی اللہ جانتا ہے۔بے آواز پیغامات کو بھی سن رہا ہے اور وہ پیغامات جوابھی آوازوں میں یالفظوں میں ڈھلے نہیں ان کو بھی دیکھ رہا ہے اور جانتا ہے، اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔صلى الله اب آنحضرت مہ کے بعض ارشادات اسی مضمون سے تعلق میں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے بخاری کتاب الزکوۃ باب قول الله فــامـــا من اعطی و اتقی و صدق بالحسنی ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ، ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے اے اللہ خرچ کرنے والے سٹی کو اور دے اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے اور پیدا کر۔دوسرا کہتا ہے اے اللہ روک رکھنے والے کنجوس کو ہلا کت دے اور اس کا مال و متاع بر باد کر۔یہ جو فرشتے ہیں ان کی آواز کو سمجھنا چاہئے ورنہ ظاہری طور پر جو اس سے پیغام ملتا ہے وہ ضروری نہیں کہ ہم اس کو عملاً دنیا میں اسی طرح ہوتا دیکھیں۔کیا ہر کنجوس کا مال برباد ہو جاتا ہے؟ ہم تو دیکھتے ہیں کہ بہت سے کنجوس ہیں جیسے قارون کا خزانہ تھا وہ جمع ہی ہوتا چلا گیا۔بالآ خر کسی زمانے میں جا کر برباد ہوا تو وہ ایک الگ قصہ ہے لیکن روز مرہ کے طور پر ہم خرچ روکنے والوں کو امیر ہوتا ہوا د یکھتے ہیں۔اس لئے یہ کہنا کہ قاعدہ کلیہ ہے کہ فرشتے اتر کر اس کو ضرور بدحالی کی بددعا دیتے ہیں اس کا وہ مضمون نہیں ہے جو ظا ہر اسن کر سمجھ میں آتا ہے۔در حقیقت جو مال خدا کے رستے سے روکا جائے وہ ہلاکت کا موجب بن جاتا ہے اور روحانی ہلاکت ہے جو پہلے پیش نظر ہے۔ہر ایسا شخص روحانی طور پر ہلاک ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی اولادیں ضائع ہو جاتی ہیں، ایسی مصیبتیں گھیر لیتی ہیں کہ ان کا کوئی علاج اس کو سمجھ نہیں آتا اور آخری صورت میں ہرایسے شخص کی دولت ایک لعنتی دولت ثابت ہوتی ہے جو نہ