خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 648 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 648

خطبات طاہر جلد 14 648 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَمَنْ رَّزَقْنَهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا هَلْ يَسْتَوْنَ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ كْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (النحل: 76) کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسے غلام کی مثال بیان فرماتا ہے جو خود مملوک ہے۔یہاں محض عبد نہیں کہا گیا بلکہ مملوک لفظ ساتھ شامل کر کے جو خرچ کا مضمون چل رہا ہے اس کے ساتھ اس کے تعلق کو دوہرے طور پر باندھ دیا گیا ہے۔لا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ کسی چیز پر بھی وہ قادر نہیں ہے۔کیا اس کی مثال اس جیسی ہو سکتی ہے وَمَنْ زَزَقْنَهُ اس کی بھی مثال پیش فرما رہا ہے اللہ ، جسے کہتا ہے ہم نے رزق عطا فرمایا حَسَنًا بہت خوب صورت رزق تھا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ پھر وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے۔سر او جَهْرًا مخفی طور پر بھی اور ظاہر کرتے ہوئے بھی هَلْ يَسْتَونَ بھلا یہ ایک جیسے ہو سکتے ہیں۔اب یہ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا کا اس مضمون سے کیا تعلق ہے۔ایک غلام تو بے اختیار ہے وہ خرچ بے چارہ کر ہی نہیں سکتا اس کا کیا قصور ہے اور اس کے مقابل پر جو آزاد ہے اس کے خرچ کی اتنی تعریف کیوں کی جارہی ہے؟ اگر عام سرسری نظر سے یہ آپ پڑھتے رہیں قرآن کریم تو بہت سے ایسے مسائل ہیں جو کبھی بھی آپ پر حل نہیں ہوں گے۔جہاں تعجب کی بات ہے وہاں ٹھہرنا چاہئے غور کر کے سمجھنا چاہئے کہ ضرور کوئی منفی پیغام ہے۔دراصل یہاں عَبْدًا مَّمْلُوا سے مراد واقعہ غلام نہیں ہیں بلکہ وہ جو اپنی دولت کا غلام بن جاتا ہے جو شیطان کا بندہ ہوکر خود اپنی ہی دولت کا غلام بن جاتا ہے اور اس کے تصرف سے اس غلامی کے نتیجے میں وہ دولت نکل جاتی ہے۔وہ شخص جو حد سے زیادہ مال سے محبت کرنے والا ہو وہ مال کی زنجیروں میں ایسا جکڑا جاتا ہے کہ بسا اوقات اپنی اولا د کو بھی محروم کر دیتا ہے اور میرے سامنے بارہا ایسے واقعات آئے ہیں۔اولا د ہے جس میں سے بعض تو اس مقام پر پہنچ گئے کہ اپنے باپ پر لعنتیں ڈالنے لگے کیونکہ ماں کو بھی ساری عمر اس ظالم نے ہر نعمت سے محروم رکھا اور اولا د کو بھی ہر نعمت سے محروم رکھا۔وہ سڑکوں پر غریبانہ فاقوں کی زندگی بسر کرنے والے اور باپ ہے جو دولت اکٹھی کئے جا رہا ہے۔ان کو سمجھاتا ہوں کہ دیکھو پھر بھی اف نہیں کرنا لیکن سمجھتا بھی ہوں کہ وہ ماحول بڑا ہی صبر آزما ہو گا جس میں آئے دن وہ اپنی ماں کو ذلیل ہوتا