خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 645 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 645

خطبات طاہر جلد 14 645 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء ہے اور مخفی پیار کا مطلب ہے دنیا کو پتا ہی نہیں کہ پیار ہے کیوں اور اندراندر پیار کے رشتے چل رہے ہیں۔وہ اظہار دیکھتے ہیں تو تعجب میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن وہ باتیں نہیں دیکھتے جو اس مخفی پیار کو پیدا کرنے کا موجب بنیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون پر ایک اور رنگ میں روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ خارق عادت باتیں تو لوگ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عادت کے خلاف ایک نمایاں طور پر اعجاز دکھایا، عادت سے مراد روز مرہ کا قانون قدرت ہے، قانون قدرت کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک بالا قانون کو جاری فرما دیا اور یہ نہیں سوچتے کہ ایسا کیوں ہوا۔فرمایا تم اگر اللہ تعالیٰ سے خارق عادت تعلق پیدا کرو گے تو لازم ہے کہ اللہ تمہارے لئے خارق عادت نشانات دکھائے۔پس انبیاء کے لئے جو ایسے اعجاز دکھائے جاتے ہیں جن کا حل محض قانون قدرت کے سمجھنے میں نہیں بلکہ قانون قدرت سے بالا قوانین ہیں جو خارق عادت ہیں یعنی عام قانون سے ہٹ کر ہیں ، ان کے اجرا تعلق ہے۔پس جو بندہ روز مرہ کے دستور کے مطابق عبادات کے حق بجالانے کے علاوہ کچھ اور ایسے رنگ بھی رکھتا ہے جو عام انسانوں کی عادتیں نہیں ہیں۔ان سے بڑھ کر ، ان سے الگ ہوکر اللہ سے تعلق قائم کرتا ہے اور اس کے لئے قربانیاں پیش کرتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خارق عادت اعجاز نمائی کی یہ وجہ ہے کیونکہ اللہ سب سے زیادہ شکر گزار ہے،سب سے بڑھ کر شکر ادا کرنے والا ہے حالانکہ کوئی بھی ایسا وجود نہیں ہے جو اللہ کو منون کر سکے مگر اس کے شکر کے انداز نرالے ہیں۔وہ دراصل احسان کا دوسرا نام ہے۔حد سے بڑھا ہوامحسن جو ہے وہ چھوٹی سی بات پر بھی جو اس کو درحقیقت فائدہ نہیں پہنچاتی بلکہ ایک بے ضرورت سا اضافہ ہے اس کے تصرف میں، اس پر بھی اتنا زیادہ ممنونِ احسان ہو جاتا ہے کہ کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح اس کو اچھا بدلہ دے، پس ویسے ممنون نہیں ہوتا۔ایک بادشاہ کو برگ سبز کا تحفہ دے دیں تو اس کو ویسے ممنون ہونے کی وجہ ہی کوئی نہیں۔سارا ملک ہی اس کی ملکیت کی طرح کا ہے اور بے شمار خزانے ، بے شمار ضرورت کی ہر قسم کی چیزیں مہیا لیکن بعض دفعہ تحفہ دینے والا ایک غریبانہ تحفہ پیش کرتا ہے اور اس کو انعامات کی خلعتوں سے نوازتا اور بے حد اس کے اس جذبے کو قبول کرتے ہوئے اس سے پیار اور تعلق کا اظہار کئی رنگ میں