خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 643 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 643

خطبات طاہر جلد 14 643 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء سے بچاتے ۔ کی تحریص کی خاطر یہ بیان فرمایا کہ محبت کی خاطر خرچ کرنا چاہتے ہو تو پھر سجا کر پیش کیا کرو۔ تے ہو وہ تمہاری ہلاکت پر منتج ہوگا ۔ اتنا بڑا پر منتج ہو گا ۔ اتنا بڑا کھلم کھلا اعلان ہے اور پھر راہ میں خرچ کرنے ایسے طریق پر پیش کرو کہ تمہاری قربانی میں مزید حسن پیدا ہو جائے اور یاد رکھنا کہ اللہ حسنین سے بہت محبت کرتا ہے۔ مقا اس خرچ کے قابل پر کچھ دوسرے خرچ بھی قرآن نے بیان فرمائے ہیں لیکن اس سے پہلے چونکہ یہاں مضمون تنبیہہ کا چل رہا ہے ایک اور تنبیہہ والی آیت میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ ہلاکت کن معنوں میں ہوتی ہے۔ اس کی تشریح قرآن کریم خود بیان فرما رہا ہے۔ یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْتُكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمَ لَا بَيْعُ فِيهِ (البقرہ: 255) اے لوگو جن کو ہم نے دنیا میں رزق عطا فرمایا ہوا ہے۔ اے ایمان لانے والو یا د رکھو کہ اس دن سے پہلے پہلے خرچ کر لو جس دن پھر کوئی سودا نہیں چلے گا۔ تمہیں خرچ کا اختیار اس دنیا میں ہی ہے اس کے بعد کوئی خرچ کا اختیار نہیں رہے گا اور وہ وقت ہر لمحہ قریب آ رہا ہے کہ تمہارے اپنے مال سے تصرف کے اختیارات اٹھ جائیں گے اور چھین لئے جائیں گے۔ تو جو کچھ کرنا ہے جلدی کرو اور مرنے سے پہلے کرنا پہلے کرو۔ لا بَيْعٌ فِيهِ اس میں کوئی سودا نہیں ہوگا وَلَا خُلہ اور کوئی دوستی بھی کام نہیں آئے گی ۔ وَلَا شَفَاعَةُ اور کسی قسم کی سفارش نہیں چلے گی وَ الْكَفِرُونَ هُمُ الظَّلِمُونَ اور کا فرلوگ خود ہی ظلم کرنے و نے والے ہیں۔ یہاں کافر کا ایک اور مفہوم بھی ہے جو اس مضمون سے تعلق رکھتا ہے وہ ہے ناشکرے لوگ ۔ وہ لوگ جو ناشکرے ہیں خدا تعالیٰ سے رزق پاتے ہیں پھر اس کی راہوں میں اس کو روک رکھتے ہیں یہاں تک کہ موت آ کر ان کو اپنے مال سے بے تعلق کر دیتی ہے اس پر ان کو کوئی تصرف نہیں رہتا ۔ یہی ہیں جنہوں نے ظلم کیا ہے۔ جبکہ موقع تھا کہ اس مال کے نتیجے میں اللہ کی محبت کماتے اور لافانی اجر کے مستحق ہو جاتے۔ وا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا ( ابراہیم : 32) یہی مضمون ہے مگر ایک اور رنگ میں خطاب میں ایک بہت ہی پیار کا کلمہ داخل کر کے تحریص فرمادی گئی ہے، تنبیہہ کے ساتھ اس خطاب میں ایک تحریص کا پہلو بڑا نمایاں ہے۔ قُلْ لِعِبَادِيَ میرے بندوں سے کہہ دے جن پہ مجھے اعتماد ہے کہ وہ میرے بندے بن کے دکھائیں گے جو ایمان لائے ہیں ۔ يُقِيمُوا