خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 642 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 642

خطبات طاہر جلد 14 642 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1995ء کو ہلاکت میں نہ ڈالو کیونکہ تم بہت بڑا نقصان اٹھاتے ہو جب خدا کی راہ میں خرچ سے رک جاتے ہو۔اتنا نقصان اٹھاتے ہو گویا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔وَاحْسِنُوا خرچ کرو خدا کی راہ میں اور زیادہ اچھے انداز سے خرچ کرو، اس میں حسن پیدا کرو اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ اور یاد رکھو کہ اللہ یقیناً احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔وہی وعدہ جو محبت کا لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ میں مضمر تھا وہ کھول کر یہاں بیان فرما دیا گیا اور تقابل پہ یہ بات کھول دی کہ خدا کی محبت کے سودے ہی اصل سودے ہیں اور وہ خدا کی راہ میں جب خرچ کرو تو اس کو خوبصورت بنا کے خرچ کرو۔احسان کے مختلف مواقع پر مختلف معنی ہوتے ہیں نماز میں احسان کا اور معنی ہے اور خرچ کے تعلق میں احسان کا اور معنی ہے۔خرچ کے تعلق میں احسان کا وہی معنی ہے جو ہم روز مرہ کی زندگی میں ان کے تعلق میں جن سے ہمیں محبت ہو احسان کے مضمون کو ہمیشہ طبعی طور پر جاری بھی کرتے ہیں، سمجھتے بھی ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ایک تحفہ انسان جب محبوب کو پیش کرتا ہے تو اس کے ارد گر دوہ کاغذ جس میں وہ لپٹا ہوا ہے اس کی در حقیقت تو کوئی اہمیت نہیں ہوتی لیکن دن بدن اس کی اہمیت اتنی بڑھتی جارہی ہے اب یہ با قاعدہ ایک سائنس بن چکی ہے کہ تحائف کو کس طرح ایسے خوبصورت لباس میں لپیٹ کے پیش کیا جائے کہ دیکھنے والا اس کو جس طرح لپٹا ہوا ہے، جس طرح پیش ہو رہا ہے اس کو دیکھ کر خوش ہو جائے کہ اس نے میری خاطر محنت کی اور اب تو اتنے بڑے بڑے پارسلوں میں اتنے چھوٹے چھوٹے تھے آنے شروع ہو گئے ہیں کہ اس مضمون کو انہوں نے بدل دیا ہے۔قرآن کا مضمون تو حکمت پر مبنی ہے۔تحفہ بنیادی مرکزی چیز رہنی چاہئے۔ارد گرد کا لباس احسان کا اظہار کرنے والا ہو کہ تحفے کے ساتھ بہت محبت وابستہ ہے اس لئے اسے سجایا گیا ہے۔اب جو دنیا داری کے طریق ہیں ان میں سجانے والی چیز زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے اور اندر والی چیز نسبتا کم اور چھوٹی۔اس لئے انسان کو اس کا برعکس رد عمل پیدا ہوتا ہے۔سمجھتا ہے کہ بہت بڑی کوئی چیز آئی ہے کھولے دیکھے تو اندر سے کوئی چیز خاص نہ نکلے تو ظاہر بات ہے کہ مضمون اپنے مقصد کو کھو دیتا ہے۔مگر قرآن کریم نے جس رنگ میں توجہ دلائی ہے وہ یہ ہے کہ اگر تم خدا کی خاطر خرچ نہیں کرتے تو یا درکھو یہ ایسی بات نہیں کہ نہیں تو نہ سہی ، چلو ٹھیک ٹھاک ہے۔فرماتا ہے اس کا طبعی نتیجہ یہ ہے کہ بیچ کی بات نہیں ہے تم ہلاکت کی طرف جارہے ہو۔وہی مال جو تم خدا کی راہ میں خرچ کرنے