خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 638 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 638

خطبات طاہر جلد 14 638 خطبه جمعه 25 راگست 1995ء دل سے دعا نکلی کہ اللہ ہی ہے سنبھالنے والا۔مجھے زندگی بھر کبھی ایسا تجر بہ نہیں ہوا یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ اچا نک یوں لگا جس طرح آسمان سے اس طرح سکینت اتری ہے کہ اچانک دل ٹھہر گیا وہیں۔کوئی فکر کی بات نہیں رہی، نہ غم کا غلبہ رہا۔ایک ایسا واقعہ جیسے عام روز مرہ کوئی واقعہ ہو جائے اس کا کوئی بھی بداثر نہیں تھا اور اس سے پہلے بھی صدمے ہوئے ہیں مگر اتنی جلدی تسکین کبھی نہیں ہوئی جو اس دعا کے نتیجے میں ہوئی ہے۔اس کا بھی اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو اسکا مبشر کی اپنی ذات سے بھی ایک تعلق ہے۔ان کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی مجھے تکلیف نہ پہنچے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف سے اس تکلیف کو جو مجھے شدت سے پہنچنی تھی خود سنبھال لیا۔میں نے جب جرمنی کے امیر صاحب سے بات کی ابھی یہ بات پوری بتائی نہیں تھی میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسکین اتری ہے۔تو انہوں نے کہا عجیب بات ہے ہمارا یہی تجربہ ہوا ہے ہم سب بڑے پریشان تھے اچانک خدا کی طرف سے ایک عجیب تسکین اتری ہے۔تو یہ دو جنازے خصوصیت کے ساتھ ابھی نماز جمعہ کے بعد ادا کئے جائیں گے اس لئے سنتیں بعد میں پڑھی جائیں۔اس کے علاوہ کچھ اور بھی عزیز ہیں مثلا آپا عائشہ، کرنل سلطان محمد صاحب کی بیوہ تھیں اور حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی بیٹی تھیں ، آپا آمنہ کی ہمشیرہ۔یہ بھی ایک فرشتہ سیرت انسان اور غیر معمولی خلیق تھیں۔جو بھی ان کو جانتے ہیں ان کو پتا ہے کہ کبھی ایک دفعہ بھی ان کی طرف سے کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جو کسی دکھ کا موجب بنی ہو۔ہمیشہ بنی نوع انسان کی ہمدردی، سچی محبت میں رہیں۔دین سے بے حد محبت اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی اور ایک مثالی خاتون تھیں۔پھر ہمارے عزیز میرے ماموں سید محمود اللہ شاہ صاحب کی بیٹی کے میاں میر نعیم اللہ صاحب کی ابھی حال ہی میں بریڈ فورڈ میں وفات ہوئی ہے اور ان کو کینسر ہو گیا تھا اور آخر وقت میں مسلسل دین کی باتیں سنتے رہے کبھی قرآن سنواتے تھے، کبھی مسیح موعود علیہ السلام کی ملفوظات سنتے تھے اور جب خیال آتا تھا کسی کو کہ تھک نہ گئے ہوں تو پوچھتا تھا تو کہتے نہیں نہیں اس سے میں نہیں تھکوں گا۔تو بہت ہی نیک حالات میں ان کا وصال ہوا ہے۔پھر ہمارے بشیر الدین صاحب مومن جو یہاں آیا کرتے تھے بنگلہ دیش سے۔ان کا