خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 639
خطبات طاہر جلد 14 639 خطبہ جمعہ 25 /اگست 1995ء خاندان بھی بہت مخلص اور فدائی ہے۔پھر میاں جہانگیر وٹو صاحب جو وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور وٹو کے والد تھے۔بڑے بہادر اور نڈر احمدی تھے خدا کے فضل سے اور کبھی اپنے بیٹے کی جو دنیاوی عزت تھی اس کے خیال سے نہ صرف یہ کہ احمدیت چھپائی نہیں بلکہ برادری میں چونکہ بہت معزز تھے ان کو بلا کر منہ پر سنایا کرتے تھے کہ تم کیا چیز ہو میں ہوں اصل جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کیا ہے۔ایک دفعہ اپنے بیٹے کو بلا کر کہا منظورا، جس طرح بھی وہ بلایا کرتے تھے کہ "کنی کپاہ ہوئی اے تیری“ انہوں نے کہا جی اتنے من یا کچھ۔انہوں نے کہا ساری حکومت دی مشینری نال لگی 23 من کپاہ ہوئی اے نا۔میں مسیح موعود دا غلام میری 42 من ہوئی اے بڑے بہادر انسان ، نڈر اور بے خوف اور کامل و فادار احمدیت کے۔اس کی وجہ سے مولویوں نے منظور صاحب پر بڑے دباؤ بھی ڈالے لیکن بہر حال جس باپ کے بیٹے تھے اس کے ساتھ وفا تو انہوں نے کی۔یہاں تک کہ جماعت کو آ کے کہا آپ کا معاملہ ہے آپ سنبھالیں۔آپ ہی جنازہ پڑھائیں اور یہ غیر کا نہیں۔جہاں جس طرح چاہیں تدفین کریں۔تو ان کے ساتھ میرا چونکہ پرانا رابطہ تھا۔ابھی منظور صاحب چھوٹے ہوا کرتے تھے۔اس زمانے سے ان کے ساتھ خط و کتابت اپنے بیٹے کی نصیحت کے لئے کہا کرتے تھے مجھے۔اس لئے ان سے بھی میری خط و کتابت رہی ہے، ایک زمانے میں تو اللہ تعالیٰ ان کی غریق رحمت کرے۔ان کے علاوہ بھی کچھ جنازے کے اعلانات ہیں کئے جاچکے ہیں۔تو یہ خصوصیت سے میں نے سوچا کہ آپ کو ان کے متعلق کچھ تفصیل بتا دوں۔اب انشاء اللہ نماز جمعہ کے بعد ان کی نماز جنازہ ہوگی۔