خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 637
خطبات طاہر جلد 14 637 خطبہ جمعہ 25 راگست 1995ء وقت میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا اسی دن آئے تھے تو انہوں نے مجھے بتایا مختصراً اور کہا میں ابھی جارہا ہوں۔تو میرے دل پہ تر ڈر ہوا، بوجھ پڑا کیونکہ بسا اوقات میں کارکنوں کو روکتا ہوں کہ اتنا بوجھ نہ لو انسان آخر انسان ہے۔بعض دفعہ نیند کے غلبے سے مغلوب ہو کر حادثات بھی ہو جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے ربوہ میں بھی ایک دفعہ پرانی بات ہے ہمارے فاروق کھوکھر صاحب ان کو بھی یہی جوش ہوا کرتا تھا کہ جب خدمت سپرد ہو تو نہ دن دیکھتے نہ رات اور نیند سے برا حال، مجبور ہوئے ہوئے کہ میں ابھی واپس جاؤں گا۔ان کو میں نے سمجھایا کہ ٹھہر میں ابھی ساری رات چل کے آئے ہیں، ابھی ناشتہ کیا ہے، اس کا بھی اثر ہوتا ہے آپ نہ جائیں۔کہ نہیں نہیں آپ فکر نہ کریں میں بڑی Drive کر لیتا ہوں اور اس کے تین گھنٹے بعد ایک کار آئی کہ فلاں کا ر آپ کے رشتہ داروں کی تو نہیں تھی کوئی ہمیں اس کی بہکی بہکی باتوں سے لگ رہا ہے کہ وہ ربوہ کا تھا اور آپ کا عزیز تھا۔تو پتا لگا کہ سو گئے چلاتے وقت اور نہر کے جو بازو کا ایک بند سا ہوتا ہے سڑک چھوڑ کر موٹر اس بند میں ٹکرائی ہے اور اللہ کا خاص فضل ہی تھا جو اس کے باوجود زندہ بچ گئے ورنہ دیکھنے والوں کو امید نہیں تھی۔تو میں اس لئے بتا رہا ہوں کہ لوگوں کو چاہئے کہ یہ نصیحت مان لیا کریں۔توفیق سے بڑھ کر اگر آپ اپنے اوپر بوجھ ڈالیں گے تو یہ جو قربانی ہے یہ غلطی کی قربانی ہے۔اللہ نے نہیں مانگی۔لَا يُكلف اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقره: 287) اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی توفیق سے بڑھ کر کام کرنے کے لئے پابند نہیں فرماتا۔پس رک جایا کریں وہاں جہاں آپ کی ہمت جواب دے جائے۔مگر بہر حال ان کو تو میں شہید ہی سمجھتا ہوں کیونکہ جس جذبے سے انہوں نے خدمت کی ہے اور آخر وقت تک کسی وجہ سے چاہتے تھے کہ جلدی لوٹوں بہت سے کام رک گئے ہیں جو جا کر ہی کئے جائیں گے۔ان کی شہادت کے تعلق میں ایک اور واقعہ جو میں آپ کو بیان کرنا چاہتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص ایک اعجاز کی صورت میں مجھے ملا۔جب ان کے وصال کی خبر ملی ، شہادت کی تو میرے دل میں سخت بے چینی پیدا ہوئی کیونکہ ان سے ان کی قربانی کی وجہ سے بہت تعلق تھا۔یہ خطرہ تو مجھے ذرا بھی نہیں ہوا کہ کام کیسے چلیں گے وہ تو اللہ کے کام چلتے ہیں ایک مبشر لے جائے تو سو مبشر عطا کر دیا کرتا ہے۔مجھے اپنے تعلق کی وجہ سے تھا کہ صدمے کا بہت بوجھ پڑ جائے گا اور میرے کاموں میں حارج نہ ہو جائے۔ایسا بوجھ نہ پڑے جس سے مجھے کوئی نقصان پہنچ جائے اور اس کے ساتھ ہی