خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 633
خطبات طاہر جلد 14 633 خطبہ جمعہ 25 /اگست 1995ء وہ دنیا کا خرج عبادت بن جاتا ہے۔اب اس کی مثال اس سے بہتر نہیں دی جاسکتی کہ انسان اپنی بیوی سے محبت کا اظہار کرتا ہے۔کبھی خاص طور پر پیار کی موج آئی ہو تو ہاتھ سے لقمہ بنا کے اس کے منہ میں ڈالتا ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ لقمہ بھی اگر تم خدا کی محبت کو غالب کرتے ہوئے بیوی کو راضی کرنے کی بجائے اس خیال سے ڈال دو کہ میرا اللہ چاہتا ہے کہ میں اس سے حسن سلوک کروں بیوی کو تو مزہ آئے گا ہی وہ تو اسی طرح لطف اٹھائے گی جس طرح تم نے لقمہ ڈالا ہوکسی اور نیت سے۔مگر تم ایک اور لطف اٹھا لو گے تمہیں بیوی کی رضا بھی حاصل ہو جائے گی اور اللہ کی رضا بھی حاصل ہو جائے گی۔وہی تمہارا فعل جو خدا کی محبت کی گرمی سے ہو گا یہ نشو و نما پانے والا ہوگا یہ بہترین نتائج ظاہر کرنے والا ہوگا۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ہمیں تسلی دلا دی کہ مومن خواہ بظاہر دنیا پر بھی خرچ کر رہا ہوا گر یہ نسخہ یادر کھے کہ جو کچھ بھی کرے اس میں رضائے باری تعالیٰ کا پہلو غالب رہے تو پھر اس کا ہر خرچ برکتوں والا ہے اور دین و دنیا میں وہ خدا تعالیٰ کے حضور نشو و نما پانے والا مال بنے گا اور اللہ کے فضل کی رحمتیں اور برکتوں کی ہوائیں اسے ایسی سرسبز لہلہاتی ہوئی کھیتیوں میں تبدیل کر دیں گی جو بڑی کثرت سے پھل دیتی ہیں اور ان کے پھل کی حفاظت کی ذمہ داری بھی آسمان سے اترا کرتی ہے۔پس ایسے سودے کیوں نہ کریں؟ خرچ تو ہم نے کرنے ہی ہیں مگر جو خدا کی راہ میں خرچ کریں وہ ایسی نیست سے کریں کہ اس سے بہتر اجر سوچا بھی نہ جاسکتا ہو اللہ کی محبت میں۔جو دنیا میں خرچ کرنے ہیں اور خود اس کے فائدے اٹھانے ہیں اس میں بھی خدا کی محبت کا عنصر شامل کر دو تو وہ بھی تمہارے لئے جزا کا موجب بن جائے گا۔ہر خرچ خدا کی خاطر کیا ہوا خرچ بن سکتا ہے۔پھر آنحضرت ﷺ ایک اور بہت ہی لطیف مثال دیتے ہیں کہ کس طرح نیتوں کے نتیجے میں خدا تعالیٰ اموال میں ایسی برکت دیتا ہے کہ بعض دفعہ عام قانون قدرت سے ہٹ کر ایسے لوگوں کے اموال میں برکت کے سامان کئے جاتے ہیں اور ان کی نشو ونما کی حفاظت کی جاتی ہے اور یہ حدیث مسلم کتاب الزہد سے لی گئی ہے۔حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے یہ قصہ بیان کیا کہ ایک آدمی بے آب و گیاہ جنگل میں جارہا تھا۔بادل گھرے ہوئے تھے یعنی ایسے جنگل میں تھا جہاں خشکی تھی اور گھاس کی پتیاں بھی نہیں اگتی تھیں لیکن با دل بہت گھر کر آئے ہوئے تھے۔اس نے بادل سے ایک آواز سنی کہ اے بادل تو فلاں نیک انسان کے باغ کو سیراب کر اور وہ بادل اس جگہ