خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 631 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 631

خطبات طاہر جلد 14 631 خطبہ جمعہ 25 راگست 1995ء اجر محبت کے نتیجے میں ملے گا نہ کہ مال کی مقدار دیکھ کر دیا جائے گا۔پس اس نے بڑے اور چھوٹے کوکس طرح دیکھیں ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا اور غریب کے لئے بھی کوئی شکوے کی اور حسرت کی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔جتنا غریب اتنا ہی تھوڑے سے مال سے اس کی محبت زیادہ ، جتنی محبت زیادہ اتنا ہی اس کا خرچ خدا کے نزدیک زیادہ مرغوب اور مقبول اور اتنا ہی بڑا محبت کا اجر اسے عطا ہوگا۔پس بظاہر فرق ہیں امیر اور غریب میں لیکن اللہ تعالیٰ کا جو نظام جاری ہے وہ ہر فرق کو مٹا دیتا ہے اور آخری فیصلہ ایک شخص کے دلی تعلق ہی کے نتیجے میں ہوتا ہے۔تان ٹوٹتی ہے تو اس کی نیت کے اچھے یا بد ہونے پر ٹوٹتی ہے اور باقی جو چیزیں ہیں خرچ یہ ایک ظاہری سا ایک نسبتاً ایسا نظام دکھائی دیتا ہے جو بنیادی اہمیت نہیں رکھتا۔بنیادی اہمیت اس تعلق ہی کی رہتی ہے جس تعلق کے نتیجے میں آپ مال خرچ کرتے ہیں یا جس کی کمی کے نتیجے میں آپ ہاتھ روک لیتے ہیں۔پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کہ ایسے بھی تو لوگ ہیں جو دین میں خرچ نہیں کرتے مگر دنیا میں ان کے ہاتھ کھلے ہوتے ہیں اور بہت خرچ کرتے ہیں۔ان کا کیا ہوگا ، ان کا خرچ کیا معنے رکھتا ہے۔فرمایا مَثَلُ مَا يُنْفِقُونَ فِي هَذِهِ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ( آل عمران: 118) یعنی وہ لوگ جو خدا سے ہاتھ روکتے ہیں ان میں سے ایسے بھی ہیں جو دنیا میں بہت کھلا خرچ کرنے والے ہوتے ہیں لیکن ان کے خرچ کی حیثیت یہ ہے کہ كَمَثَلِ رِيْحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمِظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ ان کی مثال ایسی ہوا کی طرح ہے فِيهَا صِر اس میں یخ بستہ ہوائیں ہوں۔ایسی تیز ہوا چلے جس کے اندر بعض حصے یخ بستہ کر دینے والے ہوں جیسی بعض دفعہ شنوب چلتی ہے کینیڈ او غیرہ میں ، بعض ممالک میں اچانک آتی ہے اور وہ سب کچھ اپنی سردی کی وجہ سے جلا کے رکھ کر دیتی ہے۔اتنی ٹھنڈی ہوا چلتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے اس کا نقشہ بھی کھینچا ہوا ہے باوجود اس کے کہ قرآن کریم عرب میں نازل ہوا ہے جہاں اس قسم کی ٹھنڈی ہواؤں کا تصور نہیں تھا مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو ایسے خرچ نہ کرنا دنیا والوں کی طرح جن کے خرچ کے نتیجے میں جو مثال بنے گی ایسی ہوگی جیسے کسی نے زمیندارہ کیا، محنت کی ، پھل پھول لگائے اور پھر ایک بہت ہی سرد ہوا چلی ہے جس نے سب کچھ بھلس کے رکھ دیا ہے۔اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ سرد ہوا سے کیوں نسبت دی گئی۔گرم بگولوں سے کیوں نسبت نہ دی