خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 625 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 625

خطبات طاہر جلد 14 625 خطبہ جمعہ 25 /اگست 1995ء خدا تعالیٰ سے اپنی قربانیوں کی قیمت وصول ہو سکتی ہے کرنی چاہئے کیونکہ اللہ مالک ہے اور اس پر کسی قیمت کا ادا کرنا دوبھر نہیں ہے۔اس کی میراث ہے ساری دنیا، ساری کائنات۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ میراث ہوتے ہوئے پھر وہ انفاق کیوں چاہتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میراث لینے کا قانون اس نے بنا رکھا ہے۔تجارتوں میں سودے کے قوانین ہوتے ہیں۔آپ کچھ کرتے ہیں تو اس کے بدلے آپ کو کوئی چیز ملتی ہے۔تو اللہ کی میراث کا مطلب یہ تو نہیں کہ چونکہ اللہ کی میراث ہے، اللہ کے سب بندے ہیں۔ساری میراث اللہ سب کے سپرد کر دے۔اگر یہ ہو تو پھر تو امیر غریب کی تفریق ہی نہ مٹ جائے بلکہ تمام نظام اقتصادیات تباہ ہو جائے۔ہر بندہ خدا کا بندہ ،ساری جائیداد خدا کی جائیداد، سب کو برابر تقسیم کر دے اور تقسیم کر دے برابر تو ہر ایک کو اتنی مل جائے کہ جتنا ساری کائنات کی دولت ہے کیونکہ وہ دینے کے بعد پھر بھی خدا کے پاس لامتناہی بچی رہتی ہے۔تو یہ بچگانہ سوالات ہیں۔بغیر تدبر کے لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ ایک طرف اللہ کہہ رہا ہے مِيرَاتُ السَّمواتِ میری ہیں دوسری طرف کہتا ہے خرچ کرو میری راہ میں۔بتا رہا ہے کہ میراث کے مالک بنا ہے میرے ساتھ ، اگر تم نے مجھ سے کچھ حاصل کرنا ہے اس ساری دولت میں جو میری ہے تو یہ تجارتی طریق ہے جو تمہیں بتا رہے ہیں۔تبھی اس کو واضح طور پر تجارت فرماتا ہے تِجَارَةً لَنْ تَبُوْر (فاطر: 30) ایسی تجارت ہے جو کبھی گھاٹے کی تجارت نہیں بن سکے گی۔تو اللہ کا تو ہے پھر لینے کا طریقہ کیا ہے؟ لینے کا طریقہ ہے تم کچھ خرچ کرو اس کے بدلے تمہیں زیادہ ملے گا۔اب دنیا میں بھی تو آپ اسی طرح کرتے ہیں۔یہ تو نہیں کرتے کہ آپ ایک دھیلے کا خرچ نہ کریں اور توقع رکھیں کہ سارے آپ کو اپنے اموال دے جائیں۔منافع کے سودے کا نام تجارت ہے۔گویا اپنا حصہ ڈالنا پڑتا ہے۔پس یہ دو قسم کی تجارتیں ہمیں بتائی گئی ہیں۔ایک وہ جو روزمرہ مالی قربانی ہے اس کے بغیر تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی بھی حصہ اس کی لامتناہی دولت میں سے نہیں ملے گا۔اگر اللہ کی میراث سے اس نئے قانون کے ذریعے کچھ حاصل کرنا ہے جو فضل کے طور پر ملتا ہے تو تمہیں کچھ حصہ ڈالنا پڑے گا۔اب دنیا میں اس پہلو سے ہمارے سامنے حقیقت میں تین تجارتیں آئیں گی۔آپ کو سمجھانے کی خاطر یہ تفصیل بتا رہا ہوں۔ایک ہے وہ تجارت جو دنیا کی تجارت ہے ہر قسم کی تجارتیں اس میں شامل ہیں اور اس میں قانون یہ ہے کہ ایمان کی کوئی شرط نہیں اور کسی کی خاطر کچھ خرچ کرنے کی