خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 624
خطبات طاہر جلد 14 624 خطبہ جمعہ 25 /اگست 1995ء پھر جب آپ کو اللہ تعالیٰ وارث بنا دے گا ان قوموں کا جنہوں نے آپ پر ظلم کئے اور ان کے اموال آپ کے سپرد کر دیئے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر بھی قربانیوں کا دور ختم نہیں ہوگا۔ہم پھر بھی تم سے تقاضے کریں گے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرو۔پس وہ جو خیال کرتے ہیں کہ جب احمدیت غالب آجائے گی تو چندے ختم ہو جائیں گے ان کا یہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے احمدیت غالب آجائے گی تو احمدیت ختم ہو جائے گی کیونکہ خدا کی راہ میں مالی قربانی دین کا ایسا لازمی حصہ ہے جس کے بغیر دین زندہ رہ ہی نہیں سکتا اور خدا تعالیٰ نے جان کے ساتھ مال کا سودا کیا ہوا ہے اور یہ ایک دائی تعلیم ہے۔اس لئے میں نے یہ آیت آپ کے سامنے رکھی ہے تا کہ آپ کو علم ہو کہ باوجوداس کے کہ ہماری قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ کا فضل ہمیں غلبہ عطا کرے گا لیکن اس کے بعد پھر بھی قربانیاں جاری رہنی چاہئیں اور اسی کی ہمیں اپنی اولادوں کو نصیحت کرتے رہنا چاہئے کہ جو کچھ ملے اس میں سے خدا کی راہ میں ضرور خرچ کرو۔سورۃ الحدید آیت 8 میں ہے آمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فیہ اللہ پر ایمان لاؤ اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور جس چیز کا بھی تمہیں اس نے مستخلف بنایا ہے اس میں سے بھی خرچ کرو۔مُستَخْلَفِینَ کا مطلب ہے جنہوں نے ورثے میں پہلی قوموں کی جائیدادیں پائی ہوں۔ایسا عظیم انقلاب برپا ہو گیا ہے کہ وہ لوگ جو دنیا کے مالک بنے ہوئے تھے ان کے وجود کو خدا نے مٹا دیا اور وہ اپنا سب کچھ تمہارے حق میں چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے۔ان کی جائیدادیں تمہارے نام منتقل کر دی گئیں۔یہ مُسْتَخْلَفِینَ کا مضمون ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس وقت یہ نہ سمجھنا کہ اب تو ہمیں ان قوموں کا ورثہ مل گیا اب کیوں قربانیاں دیں۔فرمایا تمہاری بقا کے لئے ضروری ہے کہ تم قربانیاں دو۔فَالَّذِينَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَأَنْفَقُوْالَهُمْ كبير پھر وہ لوگ جو تم میں سے ایمان لانے والے ہوں گے یعنی ایمان لانے والوں کو مخاطب کر کے پھر فرمایا ہے فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَأَنْفَقُوا یاد رکھنا اس وقت بھی انفاق کے ساتھ ایمان کی شرط لگی رہے گی۔اگر قربانی دو گے اور ایمان کے ساتھ دو گے تو وہ مقبول ہوگی اور اگر ایمان کے بغیر ویسے ہی قومی جذبوں سے قربانیاں دے رہے ہو یا بنی نوع انسان کی ہمدردی میں دے رہے ہو تو اس کا اجر اللہ پر نہیں ہے۔اس کا اجر تو تمہاری تمنا کا پورا ہو جانا ہی ہے۔پس جتنی بھی زیادہ