خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 622 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 622

خطبات طاہر جلد 14 622 خطبہ جمعہ 25 /اگست 1995ء مقابل کے برابر نہیں ہو سکتے۔باوجود اس کے کہ اللہ نے سب سے اچھے وعدے ہی فرمائے ہیں۔بعد والوں کی قربانیوں کا بھی اجر ان کو عطا کیا جائے گا۔وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔دوسرا پہلو یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا آج ایسا دور ہے کہ جب دین خدا کو قرض کی ضرورت ہے اور جب قرض کی ضرورت ہو تو اس وقت انسان اس قرض کے ساتھ پھر کچھ عطا کے وعدے بھی کیا کرتا ہے۔اگر کسی کو قرض کی ضرورت نہیں اور آپ یوں ہی قرض دیئے جائیں تو اس کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ آپ کو انعام و اکرام سے بھی نوازے اور اگر سودی نظام ہے تو سود بھی عطا کرے۔وہ کہے گا اپنے گھر رکھو مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن ضرورت مند تو زیادہ پیسے دے کے بھی قرضے لیا کرتا ہے کیونکہ جانتا ہے کہ اگر اس کو پیسے کہیں سے نہ میسر آئے تو اس کے وقت کا گزارہ نہیں چل سکتا۔تو اب سوال یہ ہے کہ اللہ کو ضرورت کیوں ہے؟ اللہ کی ضرورت در اصل خدا کے ان بندوں کی ضرورت ہے جو اس کا پیغام پہنچاتے ہیں، جن پر پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے اور ہر مذہب کا آغاز غربت سے ہوا ہے اور ہر مذہب کو آغاز میں ایسے اموال کی ضرورت پڑتی ہے جو خدا کے نام پر خدا کے بندے اسے قرض کے طور پر دیتے ہیں۔قرض سے مراد یہ ہے کہ وہ دیتے تو اس لئے ہیں کہ ہم جو کچھ بھی ہے، جو توفیق ہے ہم خدا کے حضور پیش کر رہے ہیں لیکن قرض ان معنوں میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قرض شمار کرتا ہے۔خدا تعالیٰ یہاں دو باتیں بیان فرماتا ہے۔پہلی بات تو یہ تھی کہ جو کچھ بھی تم دو گے قرض کے طور پر ہو یا بے قرض کے ہو جس نیت سے بھی دو گے اگر خدا کو راضی کرنا مقصود ہے تو ہر چیز کا اجر ملے گا لیکن یہاں جو مضمون ہے وہ یہ ہے کہ یا درکھو جب دین کی ضرورت ہو اس وقت تم دو تو تمہارے اموال کا بڑھانا اللہ پر فرض ہو جاتا ہے۔اس وقت عام کرم کے علاوہ ایک دوسر ارحمت کا نظام جاری ہوتا ہے اور ایسے لوگوں کے اموال میں غیر معمولی برکت دی جاتی ہے۔اور یہ امر واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دور سے اب تک ہم اس آیت کی صداقت کو اس طرح جماعت کے حالات پر چسپاں ہوتے اور اطلاق پاتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔تمام وہ غرباء جنہوں نے دین کی خاطر آغاز میں قربانیاں دی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے رنگ لگائے ہیں کہ دوسرے خاندانوں میں اس کی کوئی مثال دکھائی نہیں دیتی اور وہ