خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 621
خطبات طاہر جلد 14 621 خطبہ جمعہ 25 راگست 1995ء غلبے سے بعد کی قربانیاں ہیں ان کو نمایاں غلبے سے پہلے کی قربانیوں سے کوئی نسبت نہیں۔جیسے تہجد کی نماز کا ایک وقت ہوا کرتا ہے جبکہ روشنی کا پتا نہیں۔پوری طرح انسان نہیں جانتا کہ دن کب نکلے۔اب تو گھڑیوں کے دن آگئے ہیں مگر گھڑیوں کے دنوں میں بھی تہجد کی نماز میں ایک عجیب پوشیدہ کیفیت ہے جو ایک قسم کے پر دے رکھتی ہے اور اس وقت اٹھ کر عبادت کرنا جبکہ دنیا جا گی نہیں اور روشنی پھیلی نہیں، ایک دوسرے کی قربانیاں دکھائی نہیں دینے لگیں اس نماز کا بیسرا (فاطر: 30) سے تعلق ایسا ہے جیسے قربانی کے وقت مخفی قربانی انسان کرتا ہے اور اس کا درجہ بعد کی سب قربانیوں سے زیادہ ہے۔باوجود اس کے کہ وہ نفل ہے اور فرائض سے درجے میں وہ نفلی قربانی بڑھ جاتی ہے جبکہ دنیا کے علم کے بغیر مخفی طور پر کی جارہی ہے اور روشنی ابھی ظاہر نہیں ہوئی۔اسی طرح غلبے کے وقت دن ہوا کرتے ہیں جب اسلام کا یا کسی بھی مذہب کا غلبہ ہو جائے تو ایک روشنی ہی پھیل جاتی ہے کہ اس غلبے کی روشنی میں وہ لوگ بھی قربانیوں پر آمادہ ہو جاتے ہیں جن کی طبیعت پہلے مائل نہیں ہوا کرتی کیونکہ ایک فیشن سا بن جاتا ہے۔اس وقت اونچی بولی لگانا ان کی اپنی قدر ومنزلت دنیا کی نظر میں بڑھا دیا کرتا ہے۔تو بہت سے پردے ہیں جن کے پیچھے رہتے ہوئے قربانی کرنا یقینا پر دے اٹھنے کے بعد کی قربانیوں سے اونچی ہوتی ہے اور خدا کے نزدیک اس کا درجہ بڑا ہے۔ابھی باوجود اس کے کہ ہمیں فتوحات کی آواز سنائی دینے لگی ہے، ان کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی ہے، نظر آ رہا ہے کہ آج نہیں تو کل اللہ تعالیٰ احمدیت کو غلبہ عطا فرمائے گا۔اب وقت ہے کہ اس آیت کی آواز پر لبیک کہیں کیونکہ یہ عظیم تر قربانیوں کے دن اب زیادہ لمبے نہیں چلیں گے۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے ملک ملک فتوحات کی نوبت بجنے لگے گی، جب جگہ جگہ سے فتوحات کی نوید سنائی دے گی اس وقت پھر بھی قربانیاں تو خدا کی خاطر جاری رہیں گی کیونکہ یہ قربانیوں کا مضمون صرف ایسے چندوں سے تعلق نہیں رکھتا جو غلبہ دین کی خاطر دیئے جاتے ہیں بلکہ مستقل انسانی ضروریات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور یہ ضروریات کبھی ختم نہیں ہوسکتیں لیکن وہ قربانیاں اور ہوں گی یہ پہلی قربانیاں اور ہوں گی۔اس لئے میں سمجھتا تھا کہ اس آیت کے حوالے سے بھی میں آپ کو آج کل کی مالی قربانیوں کی اہمیت سمجھاؤں۔قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے مضمون کو کھولا ہے، فرماتا ہے پہلے لوگ بعد والوں کے