خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 616 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 616

خطبات طاہر جلد 14 616 خطبہ جمعہ 18 /اگست 1995ء (البقرہ:262) مضمون یہ ہے کہ یہاں ٹھہر نہ جانا اس کا لامتناہی قانون بڑھاتے رہنے کا بھی ایک جاری وساری ہے۔وہ پھر جتنا چاہے دیتا چلا جائے گا اور اس کا تعلق نیت کے خلوص سے ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز کی مثال دیتے ہوئے فرمایا تھا اس کو عام نمازوں کی طرح نہ سمجھنا۔اس کی ایک نماز تمہاری کتنی نمازوں پر زیادہ حاوی ہے۔تو پھر نیت کا مضمون بیچ میں داخل ہو جاتا ہے۔کچھ اور باتیں بھی اس ضمن میں بیان کرنے والی تھیں مگر میں انشاء اللہ پھر بیان کروں گا۔وقت ہو گیا ہے۔ایک اعلان کرنا تھا جو باقی رہ گیا ہے۔مجلس خدام الاحمدیہ کینیڈا کا آٹھواں سالانہ اجتماع شروع ہونے والا ہے، 18 /اگست سے شروع ہو رہا ہے تین دن جاری رہے گا۔انہوں نے سب کو السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا ہے اور دعا کی درخواست کی ہے۔صرف یہ کہہ کر اب میں بات ختم کرتا ہوں کہ ہم جس دور میں داخل ہو گئے ہیں وہاں ہمیں اب جلد جلد ان احادیث کے، ان قرآنی مضامین کے پورا ہونے کا اس دنیا میں انتظار رہے گا اور بار بار رہے گا کیونکہ جس تیزی سے جماعت پھیل رہی ہے اس تیزی سے مالی تقاضے بھی بڑھ رہے ہیں۔آغاز میں یہ جو نئے آنے والے ہیں یہ جتنی قربانی دے سکتے ہیں اس سے بہت زیادہ خرچ چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تالیف قلب کے تعلق میں ان تقاضوں کو بیان فرمایا ہے۔پھر ان کی تربیت کے لئے جو نظام بنانا ہے، جس قدر مربی چاہئیں، جس قد ر سکولز ، ہاسپیٹلز اور اس قسم کی چیزیں ہمیں چاہئیں ان پر ابتداء میں ہمیں سرمائے کی ضرورت ہے۔اب ٹیلی ویژن کے ذریعے بھی ان کے ہاں نئی نئی قوموں میں نئی نئی جگہوں پر ٹیلی ویژن کے انٹینا نصب کرنے ہیں۔پھر وقت کے تقاضے ہیں کہ اور زیادہ وقت بڑھایا جائے۔اب میں کوشش کر رہا ہوں کہ اللہ کے فضل کے ساتھ یہ جو افریقہ اور پاکستان وغیرہ میں بھی یورپ میں بھی جو وقت اس وقت میسر ہے اس سے کئی گنا زیادہ وقت حاصل کر لیا جائے کیونکہ اب ہمارے اندر اس وقت کے اندر سمٹ کر رہنے کی گنجائش نہیں ہے۔انسان بڑا ہو تو کپڑے بڑے کرنے پڑتے ہیں اور بچے زیادہ ہوں تو گھر بڑے کرنے پڑتے ہیں۔تو جماعت احمدیہ اس دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں اتنی تیزی سے بدن بڑھ رہے ہیں کہ کل کے کپڑے چھوٹے دکھائی دینے لگے ہیں، کل کا گھر بالکل معمولی سا ہو گیا ہے۔اس لئے جماعت ان آیات کی روشنی میں