خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 615
خطبات طاہر جلد 14 615 خطبہ جمعہ 18 راگست 1995ء صاحب جائیداد بن گئے اور انہوں نے چھا بڑی نہیں چھوڑی۔جب ہم وہاں سکولوں میں پڑھا کرتے تھے تو مالٹے کے چنے کا اتنا شوق تھا کہ جو پیسے کبھی بچتے تھے گھر سے وہ وہاں آتے جاتے ماٹے کے چنے کھایا کرتے تھے۔سادہ سے پنے تھے بیچ میں آلو بھی ڈالے ہوتے تھے تھوڑے سے۔مگر جوان کا مزہ تھا وہ مزہ ہی اور تھا، اس میں دعائیں بھی شامل تھیں۔حضرت خلیفہ امسیح الاول نے جس دعا کے ساتھ وہ دو آنے دیئے تھے اس میں دیکھیں کتنی برکت پڑی۔صاحب جائیداد ہو گئے اور ان کی اولاد سب دنیا میں پھیلی پڑی ہے۔ابھی ربوہ سے بھی ایک ان کے بیٹے ملنے کے لئے آئے تھے یا ان کے پوتے عبدالرحمان صاحب جو ان کے بیٹے تھے وہ ٹانگے والے بن گئے تھے۔ان کے بچے ملنے آئے۔سارے خوش حال ہیں، اپنے خرچ سے یہاں آئے ، اپنے خرچ سے جلسہ کی خاطر آئے جلسہ دیکھ کر واپس چلے گئے کوئی اور تمنا نہیں تھی۔تو یہ دو آنے کی برکت ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ سات سو گنا سے مراد یہ ہے کہ تم نے جو دو آ نے استعمال کئے حکمت کے ساتھ دنیا کے قوانین کو جو خدا نے جاری کئے ہیں ان کو بہترین استعمال میں لاتے ہوئے اتنی برکتیں مل گئیں۔مگر اللہ جو برکتیں ڈالے گا وہ ان ساری برکتوں کی انتہا سے سات سو گنا زیادہ ہوں گی۔یہ دیکھیں تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کے چندے کے دو آنے کی سمجھ آجاتی ہے۔وہ اس تجارت سے بڑھے ہوئے مال کے مقابل پر واقعی سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ ہیں اور جہاں بھی سات سو گنا یا آٹھ سو گنا کی بات ہو وہاں یہ بھی یاد رکھیں کہ قرآن کریم نے جب گنا کی بات کی ہے تو وہی دراصل مثال ، اصل مثال ہے جس سے آگے مثالیں بنی چاہئیں۔وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض تمہارے انفاق ایسے ہیں جیسے ایک بیج ڈالو اس میں سے سات کو نپلیں نکلیں۔ہر کو نیل میں بالیاں ہوں جو سو سو دانے رکھتی ہوں تو یہ سات سو گنا زیادہ بن جاتا ہے۔سات کو نپلوں پر جو بالی ہو ہر بالی میں سودانے ہوں تو سات سو گنا بن جاتا ہے لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ جس کے لئے چاہتا ہے زیادہ بڑھا دیا کرتا ہے۔یہیں نہ ٹھہر جانا۔تو ایک ذریعہ اس حدیث کو سمجھنے کا یہ بھی ہے کہ سات سو کا جو ذکر ہے ایک ابتدائی تمثیل کے طور پر ہے۔اتنا تو تمہیں دے ہی دے گا نا اور وہ بھی بہت ہوتا ہے۔ایک بیج ڈالے آدمی اس سے سات سو پیج بن جائیں یعنی ایک من پر سات سومن گندم نکلے تو بہت بڑی جزا ہے لیکن فرماتا ہے کہ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ